کالم

جے این یو کا پھنکارتا بحران!۔۔۔تعاقب۔۔۔ تنویر قیصر شاہد

بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو کے نام پر دہلی میں قائم کی گئی یہ پچاس سالہ یونیورسٹی، جسے دنیا بھر میں ’’جے این یو‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے، گذشتہ دو ہفتوں سے آتش فشاں بنی ہوئی ہے۔ اب تو سارا بھارت اس آگ کی لپیٹ میں آچکا ہے اور مودی حکومت کے ہاتھ اپنی ہی لگائی گئی آگ سے جھُلس رہے ہیں۔ بھارت میں اس وقت 740 یونیورسٹیاں بروئے کار ہیں۔ ان میں 388 سرکاری ہیں۔ جے این یو کو ان میں ممتاز ترین مقام حاصل ہے۔ یہ جامعہ اپنے آزاد خیال ماحول، سیکولر نظریات اور اظہارِ آزادی کی منہ بولتی تصویر ہے۔ بھارت بھر میں جے این یو کو مخالف خیالات رکھنے والے طلباء کا مثالی مرکز کہا جاتا ہے۔ یہاں کی سٹوڈنٹس یونین کی طرف سے کسی بھی مذہب کی پابندیوں کی قطعی پروا نہ کرتے ہوئے ہر موضوع پر اظہارِ خیال کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ نو فروری 2016ء کو جے این یو کی سٹوڈنٹس یونین نے مشہور دو کشمیری حریت پسندوں، محمد افضل گرو شہید اور مقبول بٹ شہید، کی یاد میں (یونیورسٹی انتظامیہ کی اجازت سے) ایک جلسے کا اہتمام کیا۔ مرکزی خیال یہ تھا کہ مذکورہ دونوں افراد کو دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دے کر دراصل ماورائے عدالت قتل کیا گیا تھا۔ جب مقبوضہ کشمیر کے حریت پسند مقبول بٹ اور معصوم محمد افضل گرو، اور ممبئی کے یعقوب میمن کو بھارتی عدالتوں کی طرف سے سزائے موت سنائی جارہی تھی تو کئی انصاف پسند اور باضمیر حلقے یہ دہائی دے رہے تھے کہ تینوں کو بھارتی حکومت کی طرف سے نہ ہونے کے برابر اپنا مؤقف پیش کرنے کی سہولتیں دی جارہی ہیں۔ کسی نے مگر ان احتجاجات پر کان نہ دھرا۔ یوں تینوں کو باری باری پھانسی دے کر شہید کردیا گیا۔ اب برسہا برس بعد دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں سٹوڈنٹس یونین کی طرف سے ان مسلمان شہدا کے بارے میں جلسہ منعقد کرکے یہ کہنا کہ یہ عدالتی قتل تھا، دراصل اس امر کا اظہار ہے کہ معصوم خون بول اٹھا ہے۔ قدرت نے ساری دنیا کے سامنے بھارتی حکومتوں اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے تعصبات کو برہنہ کردیا ہے۔
مبینہ طور پر اس جلسے میں پاکستان کے حق میں اور بھارت کے خلاف چند نعرے بھی بلند ہوئے۔ اے بی وی پی نام کی مخالف طلباء تنظیم، جو سٹوڈنٹ یونین انتخابات میں تازہ تازہ شکست کھا چکی ہے، نے اسے بہانہ بنایا اور جے این یو کے سٹوڈنٹ یونین صدر اور ان کے دس ساتھیوں کے خلاف غداری و بغاوت کا مقدمہ بھی درج کروایا اور جلسہ بھی دھرم برہم کردیا۔ یہ طلباء اب گرفتار ہوچکے ہیں اور بھارت کی تقریباً تمام یونیورسٹیاں حکومت کے خلاف تو بغاوت پر آمادہ ہوہی چکی ہیں، اپوزیشن جماعتیں، قانون دان حلقے اور اہلِ دانش بھی گرفتار طلباء کی طرفداری میں بھارتی پارلیمنٹ کے دونوں ایوان مچھلی بازاد بن گئے ہیں۔ مودی حکومت ایک نئے بحران کا شکار بن چکی ہے۔ اس بحران کی بازگشت ساری دنیا کے میڈیا میں سنائی دے رہی ہے۔ کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی ہذا میں بھارت مخالف نعرے لگائے گئے۔
بھارت کے انصاف پسند اور غیر جانبدار حلقوں کا کہنا ہے کہ جے این یو میں ’’پاکستان زندہ باد‘‘اور ’’بھارت مردہ باد‘‘ کا نعرہ لگانے والے یونیورسٹی کے طلباء تھے نہ ان کا تعلق سٹوڈنٹس یونین سے تھا۔ رازدانوں کا اصرار ہے کہ یہ نعرہ لگانے والے دراصل ’’آر ایس ایس‘‘ اور ’’بی جے پی‘‘ کے سیاسی کارکنان اور کرائے کے لوگ تھے جنہوں نے اپنے دیرینہ اور مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے یہ نعرہ لگایا اور لگوایا تاکہ یونیورسٹی کی آزاد اور سیکولر فضا کو بدنام کیا جاسکے۔ ’’آر ایس ایس‘‘ اور ’’بی جے پی‘‘ کا ہمیشہ سے یہ خواب رہا ہے کہ جے این یو پر قبضہ کیا جائے۔ اس مقصد کی خاطر ان دونوں ہندو مذہبی اور بنیاد پرست جماعتوں نے بڑے پیمانے پر بڑے بڑے ہتھکنڈے استعمال کیے ہیں لیکن کامیابی ان کا مقدر نہیں بن سکی۔ بی جے پی بھارتی تعلیمی اداروں پر زبردستی زعفرانی رنگ چڑھانا چاہتی ہے۔ اور اس وقت، ایک منظم مہم کے تحت، بھارت کی وہ تمام دانش گاہیں مقتدر بی جے پی کی نفرت و عداوت کا ہدف بنی ہوئی ہیں جو اپنے احاطے میں آر ایس ایس اور بی جے پی کے نظریات نافذ کرنے سے انکاری ہیں۔ علی گڑھ کی مسلم یونیورسٹی اور دہلی کی جامعہ ملیہ کے ساتھ ساتھ جے این یو بھی اسی فہرست میں شامل ہیں۔ مودی کے حامی سیاستدان اسی لیے جے این یو کو ’’دہشت گردوں کا گڑھ‘‘ بھی کہتے ہیں۔ ’’آر ایس ایس‘‘ نے جے این یو میں طلباء کا اپنا وِنگ (اے بی وی پی) بھی بنایا اور اسے ہر طرح کی مالی و سیاسی اور افرادی امداد فراہم بھی کی لیکن سٹوڈنٹس یونین میں انہیں نقب لگانے اور یونیورسٹی کے اکثریتی طلباء کو اپنا ہمنوا بنانے میں خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی۔ اب 9فروری کو ہونے والے واقعہ میں بھی اسی ’’اے بی وی پی‘‘ نے بہت شور مچایا ہے۔ مرکزی حکومت میں اپنے سرپرستوں کو مدد کے لیے بلایا اور بھارتی وزیرداخلہ، راج ناتھ سنگھ، ایسے لوگوں نے ان کی آواز پر کان بھی دھرا لیکن زیرِ بحث یونیورسٹی کے طلباء و طالبات نے متعصب ہندو زعفرانی ٹولے کا دست و بازو بننے اور یونیورسٹی کا سیکولر ماحول تباہ کرنے سے صاف انکار کردیا۔ جے این یو میں سٹوڈنٹ یونین کے صدر، کنہیا کمار، اپنے ایک درجن ساتھیوں سمیت گرفتار کیے جاچکے ہیں لیکن بھارت بھر میں مودی حکومت کی مذمت کی جارہی ہے۔ یہ بھی مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ نام نہاد طلباء سامنے لائے جائیں (جن کی ویڈیو میں نشاندہی بھی کی جاچکی ہے) جنہوں نے ’’پاکستان زندہ باد، بھارت مردہ باد‘‘ کے نعرے لگائے تھے لیکن حکومت، وزیرِداخلہ اور وزیرِتعلیم سمرتی ایرانی یہ مطالبہ ماننے کے برعکس آئیں بائیں شائیں کررہے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ نعرے لگانے والے دراصل ان کے اپنے بندے تھے جنہیں طلباء کے بھیس میں یونیورسٹی بھیجا گیا تھا۔ اب اگر انہیں سامنے لاکر عدالت کے روبرو پیش کیا جاتا ہے تو صیاد خود صید بن کر جال میں پھنس جائے گا۔ مودی، آر ایس ایس، بی جے پی، اے بی وی پی اور سب سے بڑھ کر راجناتھ سنگھ ننگے ہوجائیں گے۔ بھارت کی موجودہ مقتدر سیاسی جماعت نے جے این یو میں یہ گھناؤنا کھیل اس لیے بھی کھیلنے کی کوشش کی ہے کہ وہ یونیورسٹی میں اپنا من پسند وائس چانسلر لانے کی کوشش کررہی تھی۔ اس شخص کانام سبرامینیم سوامی جی ہے لیکن طلباء اور اساتذہ کرام نے جے این یو کے موجودہ وائس چانسلر (ایم راکیش کمار) کی جگہ سبرامینیم کو متعین کرنے کی یہ سازش ناکام بنا دی۔ آر ایس ایس اور بی جے پی کو اس کابڑا رنج تھا؛ چنانچہ شہید محمد افضل گرو اور مقبول بٹ شہید کے یومِ شہادت پر جے این یو کے طلباء یونین کی طرف سے بلائے گئے جلسے میں دانستہ فساد برپا کیا گیا جو اب ملک بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکا ہے۔ بھارتی عدالت اور عوام کی طرف سے حکومت سے یہ بھی استفسار کیا جارہا ہے کہ جے این یو کے وی سی نے جب سٹوڈنٹس یونین کو یونیورسٹی کی حدود میں کشمیر کے دونوں شہدا کے بارے میں جلسہ اور تقریریں کرنے کی اجازت دے دی تھی تو بعدازاں کس کے دباؤ اور اشارے پر جلسہ کی کارروائی روکنے کا اعلان کیا گیا؟ سوال کا مگر جواب نہیں دیا جارہا۔ 23فروری 2016ء کو بھارتی پارلیمنٹ میں بجٹ سیشن کا پہلا اجلاس ہو رہا ہے۔ بھارتی ایوانِ بالا، راجیہ سبھا (سینیٹ) کے اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا ہے: ’’مودی حکومت نے جے این یو سٹوڈنٹس یونین کے صدر اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار اور ان معصوم طلباء پر غداری اور بغاوت کا مقدمہ کرکے جو ظلم کیا ہے، ہم پارلیمنٹ میں سخت احتجاج کریں گے اور ان بے گناہوں کا مقدمہ لڑیں گے۔‘‘ جے این یو کے طلباء کے حوالے سے پیدا ہونے والا بحران اتنا گمبھیر ہوگیا ہے کہ امریکہ، برطانیہ، اٹلی، میکسیکو، ارجنٹائن، جرمنی اور فرانس کے 63 انتہائی معزز اور نامور پروفیسروں اور دانشوروں (جن میں امریکہ کا عالمی شہرت یافتہ فلسفی نوم چومسکی اور ادب کا نوبل انعام یافتہ ترک ادیب اورہان پامک بھی شامل ہیں) نے مودی کی حکومت کے اس ظالمانہ اقدام کے خلاف دستخطی مہم کے ساتھ سخت مذمت بھی کی ہے۔ مغربی یورپی ممالک میں مودی حکومت کو سخت دھچکا پہنچ رہا ہے۔ ان کی شخصیت بھی گہنا کر رہ گئی ہے۔ (جاری ہے)

  • Print