کالم

جے این یو کا پھنکارتا بحران۔۔ آخری قسط.. تعاقب۔۔ تنویر قیصر شاہد

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، ان کے وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ اور بی جے پی کے صدر اَمِت شاہ سے چند دیگر بنیادی سوالات بھی پوچھے جارہے ہیں۔ مثلاً: یہ کہ جے این یو کی سٹوڈنٹس یونین اور دیگر طلباء کشمیری حریت رہنما افضل گرو شہید اور مقبول بٹ شہید کے بارے میں بھارتی عدالتوں کے فیصلے ناجائز اور بے انصافی پر مبنی کہہ رہے ہیں اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ انہیں گردن زدنی قرار دے رہی ہے تو (مقبوضہ) کشمیر میں پی ڈی پی (جس کے وزیراعلیٰ مفتی سعید تھے) ایسی سیاسی جماعت افضل گرو کو سنائی جانے والی سزائے موت کے بارے میں کیا خیالات رکھتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ مفتی سعید مرحوم اور اب ان کی بیٹی، محبوبہ مفتی جو پی ڈی پی کی سربراہ ہیں، بھی اپنی پوری پارٹی سمیت بار بار کہہ چکی ہیں کہ افضل گرو کو دی جانے والے سزائے موت ناجائز بھی تھی اور انصاف کے منافی بھی۔ چنانچہ سوال کیا جارہا ہے کہ بھارت کی مقتدر جماعت، بی جے پی، نے پھر کن اصولوں کی بنیاد پر (مقبوضہ) کشمیر میں پی ڈی پی سے سیاسی و اقتداری اتحاد کررکھا ہے؟ پھر پی ڈی پی کو ’’غدارِ ہند‘‘ اور اس کے کارکنان اور سربراہ کو ’’ہندوستان سے بغاوت‘‘ کا مجرم کیوں نہیں قرار دیا جارہا؟ آر ایس ایس اور بی جے پی نے جے این یو پر قبضہ کرنے کے لیے بہت بڑی سازش کا تانا بانا بڑی محنت سے بُنا تھا لیکن قدرت کی طرف سے بساط ہی الٹ گئی۔ بازی الٹتے دیکھی تو بھارتی وزیرداخلہ نے غضب اور بُغض سے مغلوب ہوکر جے این یو کے ’’بھارت مخالف‘‘ ڈرامے کا سارا الزام پاکستان اور پاکستان کی ایک (سابق) جہادی جماعت کے سربراہ پر لگا دیا ہے۔ اس پر مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ بھی بھڑک اٹھے ہیں اور انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ راجناتھ سنگھ نے یہ الزام تو لگا دیا ہے، اب اسے پارلیمنٹ میں ثابت بھی کریں، وگرنہ ان کے خلاف ملک گیر تحریک چلائی جائے گی۔ راہل گاندھی بھی جے این یو کے ’’باغی‘‘ طلباء کے ساتھ کھڑے ہوکر کہہ رہے ہیں کہ سٹوڈنٹس یونین اور ان کے حامیوں کو یونیورسٹی کی حدود کے اندر اظہارِ آزادی کا پورا پورا حق ہے۔ راہل گاندھی کو شاباش دینی چاہئے کہ اگرچہ جے این یو جانے پر احتجاجی طلباء نے ان کا سیاہ جھنڈیوں سے استقبال کیا لیکن انہوں نے مظلوم طبقے کا ساتھ دینے اور اس کی آواز میں اپنی آواز ملانے سے رُوگردانی کی نہ ناراض ہوکر جے این یو سے نکلے۔
ہندوستان میں انسانی حقوق کمیشن کی ممتاز شخصیت جناب آکارپٹیل نے بھی جے این یو کی طرفداری میں ایک بھارتی انگریزی اخبار میں طویل اور متاثر کن مضمون لکھا ہے۔ آکار نے بجا طور پر کہا ہے کہ بھارتی بنیاد پرست ہندو جماعتوں کو بھارتی اقلیتوں سمیت ہر اس ادارے اور کمیونٹی سے مخاصمت ہے جو بھارت میں رہتے ہوئے انصاف اور برابری کا مطالبہ کرتے اور خواہش رکھتے ہیں۔ آکار پٹیل صاحب نے گاندھی جی کے ایک قول کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ ان عصبیت زدہ بھارتی ہندو جماعتوں اور ان کے وابستگان نے ڈاکٹر امبیدکر ایسے قومی محسن کو بھی کبھی نہیں بخشا جنہوں نے ہندوستانی دستور کی صورت گری کی۔ ان کا قصور یہ تھا کہ وہ دلت تھے۔ یہ منظر بھارتی وزیرداخلہ کو بہت تکلیف دے رہا ہے اور وہ غیض و غضب سے کہہ رہے ہیں: ’’راہل گاندھی جے این یو کے ’’غدار‘‘ اور ’’باغی‘‘ طلباء و طالبات کی حمایت کرکے ہماری حکومت ہی کو نقصان نہیں پہنچا رہے بلکہ وہ بھارت کی مزید تقسیم کی راہ بھی ہموار کررہے ہیں۔‘‘ کمونسٹ پارٹی آف انڈیا کے سربراہ، سیتارام یچری، بھی خم ٹھونک کر بھارتی وزیراعظم کے خلاف اور جے این یو کے طلباء کے حق میں میدان میں اتر چکے ہیں۔ مؤثر بھارتی اخبار اپنے اداریوں اور تجزیوں میں بار بار لکھ رہے ہیں کہ حکومت کو جے این یو کی قابلِ فخر اور آزاد فضا میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے تھی اور انہیں طلباء کو ’’باغی‘‘ قرار دے کر عدالتوں اور تھانوں میں گھسیٹنے سے بھی گریز کرنا چاہئے تھا لیکن آر ایس ایس، بی جے پی اور اے بی وی پی کے وابستگان باز نہیں آرہے۔ ان کا خیال ہے کہ وہ آگ بھڑکا کر اور اپنی نام نہاد ’’حب الوطنی‘‘ کا نعرہ بلند کرکے اپنی گرتی ہوئی مقبولیت کو سنبھالا دے سکیں گے۔ انہوں نے پھر ایک اور گناہ کیا ہے۔ 16فروری 2016ء کو جب دہلی کی ایک عدالت میں مذکورہ گرفتار طلباء کو دو ججز کے سامنے پیش کرنے کے لیے لایا گیا تو آر ایس ایس کے وکلاء نے ان طلباء پر (عدالت کے اندر) حملہ کردیا۔ اس حملے میں میڈیا کے درجن بھر افراد شدید زخمی ہوئے اور پاکستان کے خلاف نازیبا نعرے بھی لگائے گئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سارے ہندوستان میں آر ایس ایس اور مودی حکومت کو لعن طعن کرنے کا ایک نیا سلسلہ چل نکلا ہے۔ ’’بار کونسل آف انڈیا‘‘ کے سربراہ مانن مشرا نے ملک بھر کے وکلاء کو حکومت کے خلاف اکٹھا کرنے کی دھمکی دی ہے۔ انکشاف ہوا ہے کہ حملہ آور دراصل وکیل نہیں بلکہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے کارکنان تھے جنہیں وکلاء کے کوٹ پہنا کر باہر سے لایا گیا تھا۔ بھارت کی مقتدر جماعت کا ایک نیا گھناؤنا چہرہ سامنے آیا ہے۔ جے این یو کے پھنکارتے بحران سے بھارتی حکومت اتنی پریشان اور بے حال ہوگئی ہے کہ بھارتی صدر نے غصے میں آکر کلکتہ کی سرکاری ’’وِشو بھارتی یونیورسٹی‘‘ کے وائس چانسلر (ششانتا دتہ گُپتا) کو برطرف کردیا ہے۔ ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اپنے طلباء کو جے این یو کے حق میں ہڑتال سے نہ روک سکے۔ صدرِ ہند نے بھارت کی چار مزید سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو تادیبی نوٹس بھیج دئیے ہیں اور وارننگ دی ہے کہ اگر ان کی جامعات میں بھی طلباء نے جے این یو کے ’’غدار‘‘ طلباء کے حق میں مظاہرے کیے اور کیمپس میں نعرے لگائے تو انہیں بھی، ششانتا دتہ گُپتا کی طرح، یونیورسٹی کی ملازمتوں سے فارغ کیا جاسکتا ہے۔ ممتاز بھارتی سیاستدان اور ’’بھوجن سماج وادی پارٹی‘‘ کی سربراہ مایاوَتی، بھارتی دانشور ششی تھرور، کمونسٹ رہنما پرکاش کرتھ، صوبہ بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار بھی جے این یو سٹوڈنٹس یونین کے صدر کنہیا کمار اوران کے زیرِحراست ساتھیوں کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ سب نے وزیراعظم مودی اور وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نتیش کمار نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے: ’’مَیں کنہیا کمار سے خود ملا ہوں۔ وہ ایک سچا قوم پرست اور جمہوری اقدار پر ایمان رکھنے والا طالب علم ہے۔ وزیرداخلہ کو اس پر بغاوت اور غداری کا الزام لگا کر مقدمہ بناتے ہوئے شرم آنی چاہئے۔‘‘
جے این یو کا یہ بہادر طالب علم لیڈر، کنہیا کمار، اپنے درجن بھر ساتھیوں سمیت 2مارچ 2016ء تک پولیس ریمانڈ میں دے دیا گیا ہے۔ انہیں تہاڑ جیل میں رکھا گیا ہے۔ یہ وہی بدنامِ زمانہ جیل ہے جہاں مقبول بٹ اور افضل گرو کو پھانسیاں دے کر جیل ہی کے صحن میں دفن کردیا گیا تھا۔ مودی حکومت کے مذہبی اعانت کاروں نے کنہیا کمار اور ان کے ساتھیوں کو عدالت میں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ پولیس مگر انکار کررہی ہے، حالانکہ کنہیا کمار عدالت کے روبرو بیان دے رہے ہیں کہ انہیں مارا پیٹا گیا اور گندی گالیاں بھی دی گئیں۔ حیرت ہے کہ دہلی پولیس کے کمشنر، بھیم سین بسّی، نے بھی جج کے سامنے دروغ گوئی سے کام لے کر بیان دیا ہے کہ جے این یو سٹوڈنٹس یونین کے گرفتار ملزم طلباء کو تشدد کا ہدف ہر گز نہیں بنایا گیا ہے۔ ابھی جے این یو سٹوڈنٹس یونین کے طلباء پر غداری کا مقدمہ قائم کرکے گرفتار کرنے کی کہانی ٹھنڈی نہ ہوئی تھی کہ دہلی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر، سید عبدالرحمن گیلانی، کو نئی دہلی پولیس نے گرفتار کرلیا۔ یہ گرفتاری سترہ فروری 2016ء کو عمل میں لائی گئی ہے۔ پروفیسر گیلانی نے ’’پریس کلب آف انڈیا‘‘ میں، اجازت کے ساتھ، ایک تقریب منعقد کی تھی۔ ان پر بھی وہی الزام عائد کیا گیا ہے جو ’’جے این یو‘‘ کے طالب علموں پر عائد کیا گیا۔ یعنی یہ کہ گیلانی کی برپا تقریب میں پھانسی پانے والے کشمیری محمد افضل گرو کی حمایت میں نعرے لگائے گئے تھے۔ مقبوضہ کشمیر کے عظیم رہنما، سید علی گیلانی، نے پروفیسر گیلانی کی گرفتاری پر سخت ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پروفیسر گیلانی کو محض مسلمان اور کشمیری ہونے کی سزا دی جارہی ہے۔

  • Print