کالم

ضرب عضب پر سوالات کی بوچھاڑ….اسداللہ غالب

ملک کی انتہائی محترم اور مقدس عدلیہ کا یہ تبصرہ سامنے آیا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر ٹکے کا کام نہیں ہو رہا، عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے اسے انگریزی میں لکھا گیا، عوام کے ساتھ یہ مزید مذاق بند کیا جائے۔
میںنے یہ پڑھا، میرے ہوش وحواس مختل ہو گئے، مجھے یقین نہیں آیا کہ یہ عدلیہ کے ریمارکس ہو سکتے ہیں، میں چوبیس گھنٹے سکتے کی کیفیت میں مبتلا رہا۔ اتوار کے اخبارات میں وزارت داخلہ کا رد عمل پڑھا تو کچھ ہوش آیا۔اس بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تاثر درست نہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر ٹکے کا کام نہیں ہو رہا، اس لئے کہ اب تک اس کے تحت 54376 آپریشن ہو چکے ہیں اور 60420 گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔ میں قانون اور آئین نہیں جانتا مگر عدلیہ اور وزارت داخلہ کو تو ان کاا چھی طرح علم ہے، اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ عدلیہ کے ریمارکس پر تبصرہ کیا جا سکتا ہے اور ممکن ہے ایسے سوالات اور شکوک و شبھات عوام کے ذہنو ںمیں بھی ہوں، اس لئے ان کو صاف کرنے کے لئے دلائل دیئے جا سکتے ہیں بلکہ دیئے جانے چاہیئں۔
پہلی بات یہ ہے کہ نیشنل ا یکشن پلان کے تحت ضرب عضب جاری ہے، ضرب عضب ایک فوجی ایکشن ہے، ایک حالت جنگ ہے، اور دنیا میں آج تک کسی جنگ کے دوران اس کی رفتار یا اس کے رخ پر تبصرہ و تنقید سامنے نہیں آئی، امریکہ کو وار آن ٹیرر شروع کئے تیرہ برس ہو گئے اور نیٹو کی افواج بھی اس جنگ کا باقاعدہ حصہ ہیں، دنیا کے ان دو درجن سے زائد ملکوں میں کسی عدالت نے اس کو چیلنج نہیں کیا اور نہ کسی سول شخص نے اسے عدلیہ میں چیلنج کیا ہے۔ امریکہ شخصی آزادیوں کی ضمانت دینے والے آئین کا علم بردار ہے، اسی طرح نیٹو کے تمام ممالک بھی مگر امریکہ میں شخصی آزادیوں کو قومی سلامتی کے نام پر کچل دیا گیا ہے، کسی گھر میں دیوار پھلانگ کر داخل ہونے کی پولیس تک کو اجازت ہے، ٹیلی فون ٹیپ ہو رہے ہیں، ای میلز ڈیٹا مانیٹر کیا جارہا ہے۔ ایئر پورٹس پر لوگوں کا برہنہ کر کے تلاشی لی جاتی ہے مگر عدلیہ نے ان معاملات میںمداخلت نہیں کی اور انہیں خلاف آئین قرار نہیں دیا، سابق امریکی صد ر جمی کارٹر تک بلبلاا ٹھے ہیں کہ وہ اپناخط ہاتھ سے لکھتے ہیں اورخود پیدل چل کر پوسٹ بکس میں ڈالتے ہیں تاکہ ان کی پرائیویسی محفوظ رہے مگر کون کہہ سکتا ہے کہ پوسٹل مواد کی نگرانی نہیں کی جاتی۔
مگر پاکستان ایک الگ قسم کا ملک ہے ۔ یہاں توزرداری کہتا ہے کہ جرنیل نے تین سال بعد چلے جانا ہے مگر اس(زرداری) نے ہمیشہ رہنا ہے، وہ دھمکی دیتا ہے کہ ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گا، اور فاٹا سے کراچی تک زندگی جام کر دے گا، اب الطاف نے کہا ہے کہ کراچی میں ان کے لوگوں کے ساتھ جنگی قیدیوں والا سلوک ہو رہا ہے اور رینجرز نے کراچی کو مقبوضہ بنالیا ہے۔ بلوچستان کے بارے میں ایک مدت سے شورو غوغاہو رہا ہے کہ وہاں فوج کے ہاتھوں لوگوںکو غائب کیا جا رہا ہے۔
کوئی دن آتا ہے کہ خدا نخواستہ پاکستان کو بھارتی جارحیت کا سامنا ہوا تو ہم جلوس نکالیں گے کہ ہماے آرمرڈ ڈویژن نے بھارتی بکتر بند یلغار کو سیالکوٹ میں پیش قدمی سے کیوں روکا ہے یا ہماری لاہور کور نے بی آر بی کی آڑ کیوں لی ہے اور اس کے بجائے تھر کے ریگستان سے بھارت پر جوابی حملہ کیوںنہیں کیا۔ ہمارا ملک بد قستی سے فری فارا ٓل ہوتا جا رہا ہے، کوئی شخص سیکورٹی کی نزاکتوں کا لحاظ کرنے کے لئے تیار نہیں اور کچھ بعید نہیں کہ ہمارے میڈیا کو اگر ہماری فوج نے لائیوکوریج کی اجازت نہ دی تو وہ اپنے کیمرے لے کربھارتی فوج کی سائیڈ سے کوریج دینانہ شروع کر دیں، اگر میرا یہ واہمہ ہے تو پاکستانی میڈیا واضح طور پر اعلان کرے کہ وہ ملکی سیکورٹی کے اصولوں کی پاسداری کرے گا اور ہمارے تمام طبقات اور اداروں کو بھی قومی سلامتی کے تقاضوں کا لحاظ کرنا ہو گا۔ جنگ بد رکے دوران کیا کسی نے اعتراض اٹھایا کہ اسلامی لشکر نے ابو سفیان کے قافلے کاراستہ کیوں روکا، جنگ احد کے دوران یا بعد میں بھی کسی نے یہ سوال نہیں پوچھا کہ پہاڑی گھاٹی کو کیوں چھوڑا گیا جس کا فائدہ کفار کے لشکر نے اٹھایا۔ اس جنگ کے نتائج کا جائزہ لینے کے لئے کوئی عدالتی کمیشن نہیں بٹھایا گیا۔
کہنے کو ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں مگر عملی طور پر یہ جنگ بیرونی قوتوں کے خلاف ایک دفاعی جنگ ہے جو پاکستان کو خدا نخواستہ زیرو زبر کر کے رکھ دینا چاہتی ہیں، بنگلہ دیش کی شکست میں ہم جنرل نیازی کا سیاپا کرتے ہیں اور حسینہ واجد سے تمغے لیتے ہیں مگر مودی نے صاف اقرار کیا ہے کہ بنگلہ دیش کی آ ٓزادی کی خواہش ہر بھارتی کے دل میں تھی۔ اور اب را کے ایک سابق سربراہ نے جو کچھ کہہ دیا ہے، وہ آئی ایس آئی یا رینجرز کی حراست میں بیان نہیں، اس سے ہماری آنکھیں کھل جانی چاہییں اور ملک میں حالت جنگ کا اعلان کر دینا چاہئے تاکہ ہر قسم کی کج بحثی کا خاتمہ ہو اور فوج پر دوہرا دباﺅ نہ ہو کہ وہ شہادتیں بھی دے ا ور صفائیاں بھی دے۔
ضرب عضب اور قومی ایکشن پلان پر کسی کو تحفظات کا شکار نہیں ہونا چاہئے، دونوں کام جن کا ٹارگٹ صرف اور صرف ملکی سلامتی سے ہے، ایک ہمہ گیر قومی اتفاق رائے سے شروع کئے گئے،یہ انتظامی اور جنگی نوعیت کے اقدامات ہیں، اس لئے ان کی منظوری کے لئے عدلیہ سے رجوع کرنے کی ضرورت نہ تھی مگر اب اگر کسی نے انہیں کسی قانونی یا آئینی بنیاد پر عدلیہ میں چیلنج کر دیا ہے تو ہمیں انتہائی محتاط طرز عمل اختیار کرنا چاہئے، یہ تو ستم ظریفی ہے کہ ایک روز عدلیہ کے ریمارکس سامنے آئیں ، دوسرے روز وزارت داخلہ کا جواب نامہ آ جائے، شکر یہ ہے کہ وزارت دفاع یا آئی ایس پی آر نہیں بولے ۔ورنہ طوائف الملوکی کا سماں پیدا ہو جاتا، اب بھی میری رائے میں عدلیہ کو کام کرنے دیا جائے اورا س کے فیصلے کا انتظار کیا جائے، اگر عدلیہ سمجھتی ہے کہ دہشت گردی کی جنگ یا قومی ایکشن پلان میںکوئی کجی ہے توا سکے فیصلے کی روسے اسے دور کئے جانے میںکوئی مضائقہ نہیں۔ مگر زیادہ بہتر یہ تھا کآہ عدلیہ دفاعی معاملے پر ریمارکس سے اجتناب کرتی۔ملک میں پہلے ہی یہ تاثر موجود ہے کہ ماضی کی عدلیہ نے دہشت گردوں کو ضمانتوں پر رہا کر کے یا حکومت نے پھانسیاں روک کر یا انتظامیہ نے جیلیں تڑوا کر دہشت گردی کو فروغ دیا ہے۔ اگر دہشت گردوں کے دل میں ہمارے عوام کے لئے کوئی نرم گوشہ نہیں اور وہ ہمارےآ فوجیوں کے گلے کاٹ کر ان سے فٹ بال کھیلنا پسند کرتے ہیں ، ہمارے بچوں تک کا خون کرتے ہیں،ہمارے چرچوں، مسجدوں، امام بارگاہوں، مزاروں ، اور جنازوں تک کو نشانہ بناتے ہیں تو ہم ان سے کس بنیاد پر نرم سلوک روا رکھتے ہیں، کس قانون کے تحت ، کس آئین کے تحت اور دنیا کی کس عدالت کے فیصلے کی رو سے۔
ضرب عضب یا نیشنل ایکشن پلان کی مخالفت میںہمارے پاس کوئی ایک جواز بھی نہیں۔

  • Print