کالم

ضرب عضب کو وزیر اعظم کا خراج تحسین…اسداللہ غالب

ضرب عضب کو ایک سال مکمل ہو گیا،وزیر اعظم میاںمحمد نواز شریف نے شہیدوں اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا حق ادا کر دیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کل میرے پاس کافی دیر تشریف فرما رہے، انہوں نے ذکر نہیں کیا مگر وہ بیان جاری کر آئے تھے کہ پاکستان اپنے بیٹوں کا شکر گزار رہے گا۔
اور وزیردفاع خواجہ آصف کاتو یہ محکمہ ہے، انہوںنے بھی فرض منصبی نبھانے میںدریا دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ قوم شہدا کی احسان مند ہے۔
میں بھی کنجوسی نہیں کروں گا، میں وزیر اعظم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ ان کی قیادت میں مسلح افواج نے بیش بہا قربانیاں پیش کیں ۔ وزیر اعظم کے الفاظ دہراتا ہوں کہ ہمارے جانبازوںنے اپنا آج ہمارے کل کے لئے قربان کیا ، فوج کی یہ عظیم قربانیاں سدا یاد رکھی جائیں گی ۔ یہ آپریشن دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے عزم کا عکاس ہے۔
مجھے یہ بیماری لاحق نہیں کہ میں نے تو یہ لکھا تھا مگر آج تاریخ رقم کی جا رہی ہے تو مجھے یہ دہرانے ک ا جازت دیجئے کہ ٹھیک ایک سال قبل میں نے نوائے وقت میں ضرب عضب کا نقارہ بجایا، عنوان تھا،
اور تلوار چل گئی۔
یہ میرے آقا ﷺ کی تلوار ہے، بدر اور احد کے میدان میں اسی تلوار نے دشمن کا مقابلہ کیا۔
آج ہمارے ہاتھ میں عضب لہرا رہی ہے۔
آج پاکستان کا لشکر صف بہ صف میدان کارازار کا رخ کر رہا ہے۔قوم کا بچہ بچہ پاک فوج کے شانہ بشانہ ہے۔
اور اب وزیر اعظم نے جس محبت سے شہدا کی قربانیوں کا تذکرہ کیا ہے اور ضرب عضب کی کامرانیوں کو گنوایا ہے تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ رات کے آخری پہروں میں، وزیر اعظم اپنی صف شکن افواج کے لئے دعائیں کرتے آنسو بہاتے رہے ہوں گے۔
فتح ایسے نہیںملتی، اس کے لئے قربانیاں پیش کرنے والی دلیر افواج اور ایک محب وطن قومی لیڈر کی ضرورت ہوتی ہے، وزیر اعظم اس معیار پر پورے اترے اور اللہ کا شکر ہے کہ افواج پاکستان اپنے عظیم اور مقدس مشن میں کامیاب و کامران ٹھہریں۔
یہ دن ساری قوم کے لے مبارکوں کی ساعتیں لے کر طلوع ہوا ہے۔
مجھے یاد ہے سب ذرا ذرا، لاہور کی بریفنگ میں آئی ایس پی ا ٓر کے سر براہ میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے جب یہ کہا کہ پاک فوج تین سے چار ماہ کے اندر دہشت گردوں کا صفایا کر سکتی ہے تو اگلے ہی لمحے ٹی وی چینلز پر ٹکر چلنے شروع ہو گئے تھے۔ اور میڈیا بریفنگ میںموجود سینئر ایڈیٹروںنے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی مگر عاصم باجوہ اپنے دعوے پر قائم تھے ۔ یہ دعوی نہیں قوم سے وعدہ تھا جو افواج پاکستان نے قوم کی مکمل پشت پناہی میں پورا کر دکھایا۔بعد کی ایک بریفنگ میں جنرل باجوہ سے پوچھا گیا کہ آپریشن اپنی مدت میں مکمل کیوںنہیںہوا، جنرل نے بڑے دھیمے انداز میں کہا کہ ہمیں مقصد کے حصول سے غرض ہے، اب وقت کی کوئی اہمیت نہیں، ہمیں اپنے ہر جوان کی جان عزیز ہے اور فتح بھی حاصل کرنی ہے۔ مگر آپ نے اتوار کے اخبارات میں پڑھ لیا کہ سینکڑوں فوجی جوان اور افسر شہید ہوئے۔ایک پر امن مستقبل کے لئے ایک ایک قربانی بھی قیمتی ہے اور اطمینان کی بات یہ ہے کہ قوم اپنے آ ٓپ کو محفوظ تصور کر رہی ہے اور وزیر اعظم نے قوم کومزید حوصلہ دیا ہے۔کیا آپ کو خوشی نہیں کہ آج قوم اور فوج ایک ہیں، حکومت اور فوج ایک ہیں، مجھے تو بے حد خوشی ہے کیونکہ جب لوگ منتشر تھے تو میںنے انہی صفحات میں قوم کی عقل کا ماتم کیا تھا اور اسی حکومت کو سخت سست کہا تھا۔
میرے لئے وزیر اعظم کا کردار حیران کن ہے مگر یہ میری غلطی ہے کہ میں وزیر اعظم کے حسن تدبر کو جانچنے اور پرکھنے میں ناکام رہا ، اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وزیر اعظم مجھے کسی فیصلے میں اعتماد میں نہیں لیتے اور ایساکرنا ان کے لئے کوئی ضروری بھی نہیں۔ مگر حکومت میں درجہ بدرجہ افسر شاہی کی ایک فوج ظفر موج ہے جو اطلاعات کے اس بحران کے خاتمے اور خلیج کو پاٹنے میں اہم کردار ادا کر سکتی تھی۔
دہشت گردی کی جنگ جیت کر پاکستان نے پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے، امریکہ ا ور نیٹو افواج ناکام رہیں، بھارت افواج ساٹھ برس سے سر پٹخ رہی ہیں، مگر افواج پاکستان نے اپنے مشن کو جان کی بازی لگا کر پایہ تکمیل کو پہنچایا۔
اس میدان میں پاکستان آج دنیا کا لیڈر ہے۔ مستقبل کے وار کالجوںمیں جب دہشت گردی پر لیکچر دیئے جائیں گے تو مجھے یقین ہے کہ ان میں بیشتر مثالیں پاکستان کی جرات رندانہ کی پیش کی جائیں گی۔
مجھے بھی فخر ہے کہ اس مشن میں میں نے بھی ایک ا دنی کردارادا کیا ہے اور اس میں ،میں اپنے مرشد نظامی کا مشکور و ممنون ہوں جنہوںنے میرے انتہائی تلخ کالم بھی شائع کئے، مقصد ان کا بھی یہی تھا کہ قوم اور سیاسی لیڈر شپ اس مشن کے لئے یک سو ہو جائے۔ مر شد نظامی کی روح آج کچھ زیادہ ہی آسودہ ہوگی۔میری کتاب ضرب عضب کی اشاعت کی تجویز انہوں نے پیش کی تھی تاکہ وہ ساری بحث اس میں سمٹ آئے جو چنیں چناں کے گرد گھومتی رہی،نیمے دروں اور نیمے بروں پالیسی، تذبذب اور مخمصے میں جنگیں نہیں جیتی جا سکتیں اور اللہ کا شکر ہے کہ آخر کار پشاور کے پھولوں کے خون نے قوم میں وحدت کا جذبہ پیدا کیا۔وزیر اعظم نے آل پارٹیز کانفرنس بلائی اوردھرنے والے ساری چوکڑی بھول گئے۔جو امپورٹد مال تھا، وہ قوم نے واپس بلٹی کر دیا اور انقلابی لیڈر اس وزیر اعظم کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہو گیا جس کا دھڑن تختہ کرنے کی وہ تاریخ پر تاریخ دے رہا تھا۔ قوموں پر برا وقت آئے تو وہ باہمی اختلافا ت بھول جاتی ہیں اور پاکستانی قوم نے بھی ہوش کے ناخن لئے ، اسی لئے آج یہ قوموں کی برادری میں سرخرو کھڑی ہے۔اور اس کے وزیر اعظم کا سینہ فخر سے معمور ہے اور وہ فوج اور قوم کو کھل کر مبارکباد پیش کر رہا ہے۔مجھے پچھلے تین ماہ سے حادثات نے اپنی زد میں لے رکھا ہے ورنہ جس طرح میںنے ضرب عضب پر کتاب پیش کی، اسی طرح میں اس پر ایک ویب سائٹ بھی تیار کر چکا تھا ،مگر حوادث تو حوادث ہیں اور میں تنہا ذات، بہر حال کچا پکا کام آج قوم کی نذر کر رہا ہوں ، وقت کے ساتھ اس میں نکھار آئے گا،آپ بھی یہ ویب سائٹ دیکھئے اور اپنے قیمتی مشوروں سے نوازیئے۔ ویب ایڈریس ایک نہیں ،کئی ہیں۔
zarb-i-azb.com
zarbiazab.com
zarbiazb.com
zarb-e-azb.pk
ضرب عضب اور اے وطن کے سجیلے جوانو کی اشاعت کے بعد میں بالکل تہی دامن تھا، ابھی مجھ سے کوئی شکائت نہ کیجئے، میں تو بازار مصر میں یوسف کا نہیں، شہیدوں کے لہو کو خراج تحسین پیش کرنے کاا ٓرزو مند تھا، میری آس ایک دن ضرور پوری ہو گی۔ مجھے اس میں آئی ایس پی آر کا تعاون بھی درکار ہے کیونکہ اس عظیم مشن کا سارا ریکارڈ اس کی دسترس میں ہے، جو کچھ عوام کے سامنے ا ٓ سکتا ہے، مجھے بھجوا دیں۔مجھے نوائے وقت کے نامہ نگار صاحبان سے بھی درخواست کرنی ہے کہ جہاں جہاں شہیدوں کے مدفن ہیں، ان کی ایمان افروز کہانیاں لکھئے، سب مل کر ایک شاہنامہ بن جائے گا۔

  • Print