کالم

قوم اور فوج……مجیب الرحمن شامی

6ستمبر1965ءکو پچاس سال گزر گئے۔ نصف صدی پہلے آج ہی کے دن بھارتی فوج نے پاکستان پر اس زعم کے ساتھ حملہ کیا تھا کہ شام کو ا±س کے سالار جم خانہ میں مشروبات سے لطف اندوز ہوں گے۔ یلغار کا انداز ایسا تھا کہ بی بی سی نے لاہور پر بھارتی قبضے کی خبر بھی نشر کر دی تھی، لیکن بعد کے واقعات نے جہاں برطانوی نشریاتی ادارے کی کریڈیبلٹی کو ایسا داغ لگایا، جو مٹائے نہیں مٹ سکتا، وہیں بھارتی جرنیلوں کا سرِ غرور بھی پاش پاش ہو گیا۔ لاہور کیا پاکستان کے کسی بھی شہر کو حملہ آوروں کے ناپاک قدم چھ±و بھی نہ سکے۔17دن تک جاری رہنے والی اِس جنگ نے پاکستانی قوم اور فوج کی خوابیدہ صلاحیتوں کو آشکار کیا، دونوں نے ایک نئی توانائی سے سرشار ہو کر نئی تاریخ رقم کر دی۔دفاعی کامیابیوں نے قوم کو اِس طرح سحر میں جکڑا کہ کشمیر کی آزادی تک جنگ جاری رکھنے کے نعروں نے فضا کو لپیٹ میں لے لیا۔ جذبات میں بپھری ہوئی قوم یہ ماننے کو تیار نہ تھی کہ کئی گنا بڑے حملہ آور کو روک دینا اور بات ہے، اور آگے بڑھ کر مقبوضہ علاقوں کو اس کے چنگل سے چھڑانا، ایک دوسری بات۔ جب فیلڈ مارشل ایوب خان نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرارداد کے مطابق جنگ بندی قبول کرنے کا اعلان کیا تو لوگ آگ بگولہ ہو گئے۔جنگ بندی کو مستقل شکل دینے کے لئے تاشقند میں مذاکرات کی میز بچھائی گئی، تو مشترکہ اعلامیے میں کشمیر کی آزادی کا کوئی لائحہ عمل موجود نہ تھا۔ وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے م±نہ بسورتے ہوئے، تصویر بنوائی، اور ناراضی و افسردگی کا پیغام دینے میں کامیاب ہو گئے۔ بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری تاشقند ہی میں دِل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے، تو ایوب خان کے مخالفین نے اسے (مذاکراتی کامیابی کی) خوشی کو برداشت نہ کر پانے کا نتیجہ قرار دے دیا۔ یہ تاثر عام تھا کہ میدان میں جیتی ہوئی جنگ میز پر ہار دی گئی ہے۔ اعلانِ تاشقند میں فوجیں5اگست کی پوزیشن پر واپس لے جانے کا اقرار کیا گیا تھا، گویا کشمیر کی جنگ بندی لائن پر ہونے والی پیش رفت سے دستبرداری اختیار کر لی گئی تھی۔5اگست کی تاریخ کے اندراج کے اور بھی کئی معانی ہیں، جن کے ذکر سے اس وقت خود کو بدمزہ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ بہرحال تاشقند سے واپس آ کر ایوب خان کا جاہ و جلال ماند پڑتا گیا، اور ذوالفقار علی بھٹو کا ستارہ بلندیوں میں سفر کرتا گیا۔ کچھ ہی عرصہ بعد وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو ایوانِ اقتدار سے باہر تھے، اور مزید کچھ عرصے کے بعد قوم کو تاشقند کی بلی کی تلاش میں مصروف کر چکے تھے۔ چند ہی روز پیشتر برادرم خورشید قصوری کے ہاں اہل ِ دانش کی ایک مجلس میں اس ”بلی“ کی یاد تازہ ہوئی، تو ا±داس سنجیدگی طاری ہو گئی۔اِس میں کوئی شک نہیں،1965ءکی جنگ میں ہمارے فوجی جوانوں نے عزم و ہمت کی نئی داستانیں رقم کیں، اور ہماری ملی تاریخ میں سنہری ابواب کا اضافہ کیا، سرحدوں پر اپنے خون کی دیوارِ چین کھڑی کر دی۔ اس لحاظ سے وہ بھی فتح مند تھے اور قوم بھی۔ لیکن رہنمائی کے بڑے دعویدار کے طور پر فیلڈ مارشل ایوب خان کا مقدر دھندلا گیا۔ جنگ سے پہلے اور جنگ کے بعد کے واقعات ان کی قائدانہ صلاحیتوں پر سوال اٹھاتے گئے، کھوکھلی شخصیت تھوتھے چنے سے یوں بدتر تھی کہ گھنا باج بھی نہیں رہی تھی۔ 65ئ کی جنگ کے بعد پاکستانی قوم کو دو لیڈر نصیب ہوئے۔ ایک ذوالفقار علی بھٹو اور دوسرے شیخ مجیب الرحمن۔ پچاس سال گزرنے کے باوجود ہماری تاریخ ان دونوں کے اثرات سے آزاد نہیں ہو سکی، ان ہی کی آویزش نے مشرقی اور مغربی پاکستان میں فی الواقع بعدالمشرقین پیدا کر دیا۔ ستمبر65ئ میں سانس لینے والا کوئی شخص یہ تصور بھی نہیںکر سکتاتھا کہ ایک عظیم الشان قوم اور عظیم الشان فوج کا صرف چھ سال بعد وہ حشر ہونے والا ہے جسے تا حشر یاد کیا جاتا رہے گا۔آج جبکہ ہم جنگ ستمبر کی ”پچاسویں سالگرہ“ منا رہے ہیں، ہمیں ایک ایسی جنگ لڑنا پڑ رہی ہے، جو ہماری سرحدوں کے اندر برپا ہے۔1971ئ سے ہم نے یہ سبق حاصل کیا کہ پاکستان کو جوہری طاقت بنا کر دم لیا۔ بھارت کے ایٹمی دھماکوں سے بڑھ کر دھماکے کر کے ا±س کی نیندیں اڑا دیں۔ خطے میںدہشت کاوہی توازن قائم ہو گیا جو سوویت یونین کے ایٹمی تجربے نے امریکہ کے مقابل حاصل کر لیا تھا۔ اس کی پیدا کردہ فضا میںآج ہم اعتماد کا سانس لے رہے ہیں۔ دشمن نے ہمارے داخل میں جنگ برپا کر رکھی ہے۔ ہمیں اندرونی یلغار کا سامنا ہے کہ کسی ایٹمی طاقت پر باقاعدہ چڑھائی اپنی موت کو آواز دینے کے مترادف ہوتی ہے۔1965ئ کا تجربہ 1971ئ میں ہمارے کام نہیں آسکا تھا، لیکن1971ئ کا تجربہ 2015ئ میں ہمارے کام ضرور آ رہا ہے۔ آج تخریب کار اور دہشت گرد اپنے چہرے پر سیاست کی نقاب اوڑھنے اور اپنا تخلص ”عوام“ رکھ لینے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے۔ آج سیاست فوج کے مقابل نہیں، فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔ آج کوئی یحییٰ خان موجود نہیں کہ ا±س کے سر پر کئی ٹوپیاں پہننے کا جنون سوار ہو، اور نتیجتاً کسی ایک سے بھی انصاف نہ کر سکے۔ آج منتخب ادارے اور منتخب حکومتیں(جیسی بھی لولی لنگڑی ہوں) موجود ہیں، اور اپنے حصے کا کام کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ فوج اپنا فرض ادا کر رہی ہے۔ حادثات نے کسی کا بھی جثہ ایسا نہیں رہنے دیا کہ دوسرے کے حصے پر دعویٰ کر سکے۔ بے شک اپنا اپنا کام کرنے والے ہی دشمن کا کام تمام کر سکتے ہیں۔

  • Print