کالم

پاک فوج پر عوام کا غیر متزلزل اعتماد…..اسداللہ غالب

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ اس وقت عوام کا اپنی افواج پر غیر متزلزل ا عتماد ہے۔میں ا س پر الحمد للہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا۔
ہر اچھے کام کو نظر لگ جاتی ہے، سو اللہ نظر بدسے بچائے اور جو پاکستانی لیڈر فوج سے بدکے ہوئے ہیں ، اللہ انہیں راہ راست پر آنے کی توفیق عنایت فرمائے۔
جنرل راحیل کا دعوی نہ تو خوش فہمی ہے ، نہ پروپیگنڈہ۔ انہوںنے جو محسوس کیا، وہ بلا کم و کاست ان کی زبان پر آ گیا۔
فوج پر عوام کے اعتماد کیو جہ وہ احتساب ہے جو فوج نے بلا امتیازدہشتگردوں، قبضہ گروپوں، ٹارگٹ کلرز، پتھاریداروں، پرچی مافیا اور کرپشن میںلتھڑے ہوئے طبقات کے خلاف کیا ہے، دہشت گردی نہ ہونے کے برابر ہے، کوئی اکادکا واردات ضرور ہو جاتی ہے اور یہ سلسلہ ا سوقت تک رکنے کا نام نہیں لے گاجب تک دہشت گروں کے سہولت کاروں اور سرمایہ کاروں پر بھی آہنی ہاتھ نہیں ڈالاجاتا۔ فوج اب یہی کاروائی کر رہی ہے جس کی وجہ سے وہ سیاستدان بھی فوج کے خلاف اکٹھ کر رہے ہیں جنہوںنے قومی ایکشن پلان پر دستخط ثبت کئے، شاید اس وقت وہ بھول گئے تھے کہ وہ تو اپنا ہی گلا کاٹ رہے ہیں۔مگر جو ہونا تھا ہو چکا، نیشنل ایکشن پلان پر کسی کااختلاف رائے نہیں تھا،ا سی لئے پاک فوج کی احتسابی گرفت پر واویلا مچانے و الوں سے کسی نے ہمدردی کااظہار نہیں کیا اور ان میں سے بعض تو بیرون ملک عافیت کی تلاش میں فرار ہو گئے۔باقی جو ہاتھ لگ گئے ہیں وہ قانون کے تحت پلی بارگین کا سہارا لے کرنیک نام بننے کی کوشش میں ہیں، کوئی عوام سے پوچھے تو وہ کہیں گے کہ پلی بارگین نہیں، لوٹ کی ساری حرام کی کمائی واپس لی جائے اور ان مجرموں کوتاحیات جیلوں میں سڑنے دیا جائے۔جن لٹیروںنے ملک اورا س کے عوام پر کوئی رحم نہیںکیا تووہ خود کسی رحم کے کس طرح حقدار ہو گئے کہ چند کروڑ واپس کریں اور باقی کے اربوں کھربوںسے گلچھڑے اڑاتے پھریں اور عوام ا ورقانون کا منہ چڑاتے رہیں۔
فوج کو ایک چومکھی جنگ لڑنا پڑ رہی ہے، ملک کے دشمن باہر بھی ہیں اور اندر بھی ان کے ایجنٹ دندنا رہے ہیں۔فاٹا کا علاقہ دہشت گردوںا ور انتہا پسندوں سے بھرا پڑا تھا، یہ لوگ صرف پاکستان کے اندر ہی نہیں، باہر بھی جس مرضی ملک میں خود کش دھماکے کرتے رہے۔افغانستان اور بھارت تو خیر چیختے ہی ہیں مگر چین کے صدر نے ان دہشت گردوں کا سختی سے نوٹس لیا اور ضرب عضب کا آغاز بھی تب ہوا جب انہی چینی اور ازبک دہشت گردوں نے پشاور کے ننھے پھول سے بچوں کے خوں کا دریا بہا دیا۔انہی ازبک ا ور چینی دہشت گردوںنے کراچی ایئر پورٹ پر قیامت برپا کی اور کارکنوں کو زندہ جلا دیا۔ بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوںمیں بھارت کی دہشت گرد تنظیم را کے ایجنٹوںنے کھل کھیلا۔ پاک فوج اس سارے خونی ڈرامے پر خاموش تماشائی نہیںبن سکتی تھی،ا سنے آئین کے تحت ملک کی اندرونی اور بیرونی سیکورٹی کے تحفظ کا حلف اٹھا رکھا ہے، جنرل راحیل نے بزن کاا شارہ کیا اور پاک فوج نے شجاعت ا ور قربانی کی وہ تاریخ لکھی، اپنے خون سے لکھی کہ چشم عالم دنگ رہ گئی۔امریکی افواج عالمی اتحادیوں کے ساتھ بارہ پندرہ برس سے وارا ٓف ٹیرر کے اکھاڑے میں ہیں مگر عراق ہو یا شام ، یمن ہو یا مصر، افغانستان ہو یا کوئی افریقی ملک ، ہر جگہ عالمی لشکر کو ہزیمت کا سامنا تھا، اس لئے ہزیمت کا سامنا تھا کہ ان میں سے کوئی بھی دو بدو، دست بدست لڑنے کے لئے تیار نہ تھا، بس وہ ڈرون مارتے تھے، کروز میزائل داغتے تھے اور بی باون بمبارسے ہزاروں پاﺅنڈ وزنی بم گراتے تھے، یہ تھی ان کی بہادری کی انتہا، اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن وائٹ ہاﺅس کے آرام دہ صوفوںپر بیٹھ کر اور وڈیو لنک پر کیا گیا۔
ہمارا ایک دشمن ہمارے ہمسائے میں بیٹھا ہوا ہے۔ اور یہ ہمارا ازلی اور ابدی دشمن ہے، ہم اس پر ایک ہزار سال تک حکومت کر چکے ہیں،اس کے سورماﺅں کو بار بار شکست سے دوچار کرتے رہے ہیں۔اس دشمن کو یہ سارے زخم نہیں بھولتے۔ اور وہ عالمی طاقتوں کی اشیر باد سے پاکستان کو حرف غلط کی طرح مٹانے پر تلا ہوا ہے۔ اس کے لیڈر ز کاخیا ل تھا کہ پاکستان زیادہ دیر نہیں چلے گا، مگر یہ چلتا نظرا ٓیا اور اندرا گاندھی نے وار کر کے ہمیں دو لخت کر دیا،ا سنے نعرہ تو یہ لگا دیا کہ دو قومی نظریئے کو خلیج بنگال میں غرق کر دیا ہے مگر کوئی اس سوال کا جواب بتائے کہ حسینہ واجد کے ہوتے ہوئے بھی بنگلہ دیش اپنی فوج کو کیوں مضبوط کر رہاہے، کیا اسے برما سے خطرہ ہے، بالکل سے نہیں، بنگلہ دیش کی فوجیں اپنی آئی پر آ گئیں تو برما چند گھنٹو ں کی گیم ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ بنگلہ یش کو اصل خطرہ بھارت سے ہے۔
بھارت اسوقت پورے خطے کے لئے خطرہ ہے اور وہ چھوٹے چھوٹے ممالک کا گلا کاٹنے سے پہلے پاک فوج کی طاقت ختم کرنے کے در پے ہے۔ پاکستان نہ ہوتا تو بھارت کب کا اکھنڈ بھارت تشکیل دے چکا ہوتا اور چھوٹے ہمسایوں کو ایک ایک کر کے ہڑپ کرنے کے بعد مہا بھارت کی ایمپائر کھڑی کر چکا ہوتا۔
پاکستان کے ایکی طبقے میںبھارت کے لئے ایک نرم گوشہ موجود ہے اور وہ بھاگ بھاگ کربھارت جاتے ہیں مگر اب بھارت کا موڈ بدل گیا ہے، وہ اپنے ان شردھالووں کی ایسی درگت بناتا ہے کہ وہ الٹے پاﺅں بھاگے چلے آتے ہیں۔بھارت تو اپنی مسلمان کمیونٹی کے لئے بھی خطرہ بن چکا ہے ا ور وہاں صرف گائے کاگوشت کھانے کے شک وشبہے میں لوگوں کے گلے کٹ رہے ہیں۔ مسلمان تو خیر اس کے نزدیک گردن زدنی ٹھہرے وہ تو دلت اور نیچ ذات کے ہندووں کی زندگی بھی اجیرن بنا چکا ہے۔
اس اندھیر گردی میں خطے کے لئے امید کی کوئی کرن باقی ہے تو وہ ہے پاک فوج۔ بھارت اسی سے خم کھاتا ہے،ا سے معلوم ہے کہ اس نے بری نیت سے اپنی فوج پاک بھارت سرحد سے ایک سو کلو میٹر دور بھی جمع کرنے کی کوشش کی تو اس جمگھٹے کا وہیں شمشان گھاٹ بنا دیا جائے گا۔
اور پاکستان کے لوگوں کے لئے بھی پاک فوج واحد سہارا بن کر دکھا رہی ہے۔ لوگوں کو پاک فوج کی داخلی، خارجہ، معاشی، تعلیمی، صحت وغیرہ کی ہر پالیسی کے بارے میں علم ہے جبکہ حکمرانوں کی پالیساں راتوں رات بدل جاتی ہیں اور ان پالیسیوں کا عوام کی فلاح و بہبود سے دور دور کا تعلق نہیںہوتا۔ عوامی فلاح ہی درکار تھی تو میٹرو پر کھربوں ضائع کرنے کے بجائے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر لگائے جاتے اور یہ پیسے چین یا ترکی یا آئی ایم ایف کے مرہون منت بھی نہ ہوتے۔
پاک فوج شہیدوں کے لہو کے صدقے یک سو ہے، اسی لئے آرمی چیف نے کہا ہے کہ لوگ اپنی افواج پر غیر متزل اعتماد رکھتے ہیں۔
پھر دعا ہے کہ ا س اعتماد کو اللہ نظر بد سے بچائے!

  • Print