خبرنامہ

قاضی حسین احمد بھی دہشت گرد رہے۔۔امیر العظیم

نعوذ باللہ! میری کیا مجال کہ میں کسی کو دہشت گرد کہوں اور وہ بھی قبلہ محترم قاضی حسین احمد کو۔
مگرجس طرح ہمارے مولوی حضرات کے پاس کسی کو بھی کافر قرار دینے و الی مشین ہے،ا سی طرح وائٹ ہاؤس میں ایک مشین نصب ہے جو دنیا میں کسی کو بھی دہشت گرد قرار دے سکتی ہے۔
اور یہ امیر العظیم کی کہانی کا اگلا حصہ ہے۔
دنیا کی ایک سپر پاور کا افغانستان میں بو لو رام ہو گیا تو امریکہ کو ان جہادیوں کی ضرورت نہ رہی جن کی مدد سے اس نے سووئت روس کو ناکوں چنے چبوائے تھے۔سووئت روس افغانستان ا ور پاکستان کو تاراج کرتے ہوئے بلوچستان کے ساحلوں تک پہنچ کر بحیرہ عرب کے گرم پانیوں پر قابض ہونا چاہتا تھا، روس کی یہ خواہش زار شاہی دور سے تھے، کمیونسٹ اقتدار میں آئے تو یہ ہوس انہیں ورثے میں ملی۔
عجیب بات ہے روس یہ مقصد بزور طاقت پورا کرنا چاہتا تھا مگر آج چین کی یہ خواہش ایک گولی چلائے بغیر پوری ہو رہی ہے بلکہ الٹا ہم نے پاک چین کوریڈور کی حفاظت کے لیئے ایک سیکورٹی ڈویژن کھڑا کر دیا ہے۔ چین کی نہ ہینگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا آئے والی مثال ہے۔مگر روس کے خواب اپنی موت آپ مر گئے ا ورا سکے لئے امریکہ نے پاکستان کو استعمال کیا ، پاکستان کی قیادت امریکہ سے بھی سیانی نکلی ،ا س نے امریکیوں سے کام کے دام تو خود اینٹھے مگر جہاد کے لئے مختلف تنظیموں کو ٹھیکہ الاٹ کر دیا ، سمجھ لیجئے یہ اس زمانے کے نان اسٹیٹ ا یکٹر تھے جن کو بروئے کار لانے میں امریکہ کو قطعی اعتراض نہ تھا بلکہ ا س نے ڈالروں ا ور اسٹنگروں سے ان کی مدد بھی کی۔کچھ خود کی ، کچھ اپنے عرب دوستوں کے ذریعے کی ، ان میں اسامہ بن لاد ن سر فہرست تھا، اس کے جہاز ڈالروں کی پیٹیوں سے لدے ہوئے پاکستان اترتے تھے، یہ ڈالر کہاں جاتے تھے، یہ تو خدا ہی جانتا ہے یا ضیا الحق اور جنرل اختر عبدالرحمن ، ان کے علاوہ کسی کو افغان جہاد کی بھنک نہ لگنے پائی۔ نواز شریف کو اعتراض ہے کہ کارگل کی منصوبہ بندی میں مشرف نے اپنے کور کمانڈروں تک کو اعتماد میں نہ لیا مگر ضیا الحق نے بھی یہی کچھ کیا اور امریکی ا شیر باد سے کیا، مشرف کو امریکی ا شیر باد حاصل نہ تھی، ا س لئے وہ راندہ درگاہ ٹھہرا۔اور ضیاا لحق مرد مومن مرد حق کہلاتا ہے۔
امریکہ نے اپنی مد مقابل سپر پاور کے ٹکڑے ٹکڑے تو کر دیئے مگرا سے ڈر تھا کہ اس نے جن جہادیوں کی پرورش اور سرپرستی کی ہے، کہیں وہ اس کے ہی گلے نہ پڑ جائیں ، سواس نے ایک نئی حکمت عملی بنائی کہ انہیں دنیا کی نظروں میں ذلیل ورسوا کر دیا جائے۔
امیرالعظیم بتاتے ہیں کہ بعض ریٹائرڈ امریکی اہلکاروں نے ان کے سامنے انکشاف کیا کہ افغان جہاد کے خاتمے کے بعد پہلے تو انہیں اپنے سفارت خانے سے یہ ہدایت ملی کہ جہادیوں کو انتہا پسند لکھنا شرع کر دیں، اگلے مرحلے میں انہیں بنیاد پر ست کہا گیا ، تیسرے مرحلے میں انہیں متشدد قرار دیا گیا ور بالآخر انہیں دہشت گرد کہا جانے لگا۔
یہی وہ زمانہ ہے جب امریکی سینیٹ میں عالمی دہشت گردوں کی ایک رپورٹ پیش کی گئی جس میں قاضی حسین احمد کا نام نامی اسم گرامی شامل تھا۔
یہ تھا صلہ سوویت روس کے خلاف جہاد کی قیادت کرنے کا جو قبلہ محترم قاضی حسین احمد کو امریکی سینیٹ کی طرف سے عطا کیا گیا۔
مگرا س رپورٹ میں امیرا لعظیم کو بھی دہشت گرد کہا گیا تھا، اس نوجوان کی شاید ابھی مسیں بھی نہ بھیگی تھیں کہ اسے امریکہ کی طرف سے یہ غلیظ گالی سننا پڑی۔ اس کا کیا قصور تھا، شاید اس کا جیل کے دنوں میں اٹھنا بیٹھنا سکھ حریت پسند لیڈروں سے ہو گیا تھاا ور بھارتی حکومت کی شکائت پر امریکہ نے اسے بھی دہشت گرد بنا دیا۔ آج اسی بھارت کی شکائت پر امریکہ نے لشکر طیبہ، جماعت الدعوہ ، فلاح انسانیت فاؤنڈیشن، جیش محمد اور نجانے کس کس پاکستانی تنظیم کو دہشت گرد کہہ ڈالاہے مگر بھارت کے طو ل و عرض میں دہشت گردی ہورہی ہے،خود بھارتی فوج کشمیر میں سنگین دہشت گردی کاارتکاب کر رہی ہے، راشٹریہ سیوک سنگھ جیسی کالی ماتاکی پجاری تنظیمیں دھمکیاں دے رہی ہیں کہ کوئی پاکستانی بھارت آیا تو ا س کا منہ کالا کر دیا جائے گا، پاکستانی کرکٹ ٹیم کھیلنے آئی تو اسٹیڈیم میں ہل چلا دیا جائے گا،مگر بھارت کے ان انتہا پسندانہ ، دہشت گردانہ رویوں پرامریکہ بالکل خاموش ہے۔
جماعت اسلامی ا ور بھارت کی پرخاش کی ایک لمبی کہانی ہے ، بھارتی وزیرا عظم واجپائی بس میں بیٹھ کر لاہور آئے تو شام کو حکومت پاکستان نے ان کے اعزاز میں ضیافت کا اہتما م کیا۔ جماعت نے اس کے شرکا کا زبر دستی راستہ روکا جس میں بعض عرب ممالک کے سفیروں کی کاروں کو نقصان پہنچا،جماعت کو اس حرکت کا سخت خمیازہ بھگتنا پڑا۔اگلے روز قاضی حسین احمدنے لٹن روڈ کے دفتر میں ایک خطاب رکھا، لاہو ر پولیس نے اس کا گھیراؤ کر لیا، آنسو گیس سے ہر کسی کا سانس بند ہو گیا، اخباری فوٹو گرافروں نے قاضی صاحب کو گھیرے میں لے کر باہر نکالا، مگر جماعت کے نوجوانوں کو لاہور پولیس نے پکڑ کر ایک وین میں بند کیا ،انہیں دست آور مشروب پلا دیااور میانوالی جیل لے جا کر بند کر دیا، راستے میں گھنٹو ں کے سفر کے دوران، ان کی کیا حالت ہوئی،ا سکا تصور بھی محال ہے۔
یہ پرانی باتیں ہیں مگر امیر العظیم کے حوالے سے یاد آ گئیں۔
جماعت کی موجودہ قیادت کے حوالے سے امیر العظیم انتہائی پر امید ہیں، ان کا کہنا ہے کہ خیبر پی کے میں ان کے ووٹ بنک میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے مگر انہیں مولانامووودی کی یہ بات یاد ہے کہ مکمل اقتدار کے حصول کے لئے جماعت کو دو تین پشتوں تک انتظار کرنا پڑے گا۔
خدا نہ کرے اس انتظار میں کشتوں کے پشتے لگ جائیں۔ایک پشت افغان جہاد میں اور دوسری پشت کشمیر جہاد میں کام آ چکی ہے۔
امیر العظیم نے ایک دلچسپ تضاد کی طرف توجہ دلائی۔ کہنے لگے کہ جماعت کے عملی سیاست میں حصہ لینے پر جن راہنماؤں نے الگ راستہ اختیار کیا اوراقتدار پر تھوکنے کا مشورہ دیا تھا، بعد میں یہ سب اقتدار میں آئے، مثال کے طور پر ڈاکٹرا سرار احمدنے ضیا الحق کی مجلس شوری کی رکنیت قبول فرمائی،ارشاداحمد حقانی ایک نگران دور میں وزیر اطلاعات بنے اور میاں مصطفی صادق نے بھی وزارت قبول کی اور ہمیشہ حکومت وقت کے ساتھ خوشگوار روابط استوار رکھے۔
امیر العظیم کا حافظہ بلا کا ہے مگر میرا قلم ستر عشرے گزار چکا ہے، اس کامیموری کارڈ گھسا پٹا ہے، سب کچھ تو یاد نہیں رہا، دو باتیں اور سن لیجئے۔ امیر العظیم کہتے ہیں کہ جب قاضی صاحب نے پانچ فروری کو یوم یک جہتی کشمیر منانے کا اعلان کیا تھا تو انہیں ذرا بھی توقع نہیں تھی کہ ا س کی کوئی پذیرائی ہو گی مگر اب برسہا برس کے بعد بھی یوم یک جہتی کشمیر دھوم دھام سے منایا جاتا ہے تو قاضی صاحب کی روح کو یقینی طور پرآسودگی ملتی ہو گی۔
عمران خان نے دھرنا دیا تو ماضی کے تعلقات کے ناطے جماعت کی قیادت نے ان سے رابطہ کیا۔ وہ یہ جاننا چاہتی تھی کہ اس دھرنے میں کیا کردار ادا کیا جا سکتا ہے، ان مذاکرات میں امیرا لعظیم شریک ہو اکرتے تھے، ان کاکہنا ہے کہ عمران خان ہمارے کئی سوالوں کے جواب میں خاموشی اختیار کر جاتے تھے۔
اس خاموشی کا مطلب کیا تھا۔

انٹریو: اسداللہ غالب

  • Print