خبرنامہ

پاکستان نے پاکستانیوں کا ساتھ کیوں چھوڑا۔لیاقت بلوچ

کچھ لوگوں کو پاکستان استعمال کرتا ہے، پھر ٹشو پیپر کی طرح بے کار سمجھ کر کوڑے دان میں پھینک دیتا ہے۔
یہ میرا سوال تھا۔
اس بار میرا مکالمہ لیاقت بلوچ سے تھا، جماعت اسلامی کے ممتاز راہنما،جن کی یہ شہرت میرے ذہن میں کانٹا بن کر کھٹک رہی تھی کہ فوج نے جماعت سے کہا کہ وہ اپنے متنازعہ بیان پر معافی مانگے تو لیاقت بلوچ نے جماعت کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ جماعت معافی نہیں مانگے گی بلکہ حکومت سے کہہ رہی ہے کہ وہ فوج کے سیاست میں ملوث ہونے کا نوٹس لے۔ اس پر سیز فائر تو ہو گیا تھامگر میں جماعت کی سوچ کی اس تبدیلی کی وجہ جاننا چاہتا تھا کہ ا س نے فوج سے دوری ہی نہیں، محاذ آرائی کیوں اختیار کی۔
لیاقت بلوچ نے کہا کوئی بڑی وجہ نہیں ، ہم کسی کو کیسے یہ حق دے سکتے ہیں کہ وہ ہمیں ڈکٹیٹ کرے۔
مگر فوج ا ور جماعت کا ایکا اپنی جگہ پر ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔آپ نے فوج کے ساتھ مل کر افغان جہاد لڑا، ا س سے قبل مشرقی پاکستان کے دفاع کے لیئے قربانیاں دیں، پھر کشمیر میں آپ کی جماعت کے چوٹی کے لیڈروں کے جوان بچے شہید ہوئے۔
یہ حب ا لوطنی کا جذبہ ہے جو ہمیں فوج کا ساتھ نبھانے پر مائل کرتا رہا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے پاکستان کی سا لمیت اور مفادات کے تحفظ کے لئے کردارا دا کیا، یہ ہمارا فرض تھا۔
مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آ پ تو پاکستان کا ساتھ دیتے رہے مگر وقت نکلنے پر پاکستان نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا جیسے ان دنوں بنگلہ دیش میں پھانسیاں ہو رہی ہیں، اس میں جماعت کے جید لیڈرز شامل ہیں ، مگر پاکستان نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
یہ درست ہے کہ مشرقی پاکستان کے خلاف بھارت نے جارحیت کی، اندرا گاندھی نے دھاوا بولنے سے قبل پوری دنیا کا دورہ کیاا ور پھر برق رفتار حملے سے ڈھاکہ پر قبضہ جما لیا۔ یہ تاریخی حقائق ہیں، بھارت کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی ابھی ڈھاکہ گئے تو انہوں نے تسلیم کیا کہ بنگلہ دیش بنانے میں ان کا کردار شامل ہے ا ورہر بھارتی کی خواہش تھی کہ بنگلہ د یش بنے تو اس کے بعد بھارتی جارحیت کو ثابت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں رہتی ، جماعت ا سلامی ا ور اسلامی چھاترو شنگھو، البدرا ور الشمس نے بھارت کا منہ توڑنے کے لئے بھر پور کوشش کی مگر آج کے بنگلہ دیش نے انہیں جنگی مجرم قرار دے دیا ہے ، جماعت کے کئی راہنماؤں کو پھانسی ہو چکی ہے، کچھ تو جیلوں میں مردہ پائے گئے، کچھ پھانسیوں کے انتظار میں ہیں۔اوراس معاملے پر پاکستان نے جس طرح مجرمانہ خاموشی ا ختیار کر رکھی ہے، ا سکا نتیجہ بڑا سنگین نکل سکتا ہے۔
پھانسیوں سے آگے ا ور کیا ہو سکتا ہے۔میرا سوال تھا۔
یہ پھانسیاں تو سویلین لیڈر شپ کو دی جارہی ہیں مگر بنگلہ دیشی حکومت نے پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کی بھی ایک لسٹ جاری کرر کھی ہے جنہیں وہ جنگی مجرم سمجھتی ہے ،وہ ممکنہ طور پرپاکستان سے ا ن کی حوالگی کا مطالبہ کرے گی، ظاہر ہے پاکستان اس حدتک تو سجدہ ریز نہیں ہو سکتا ، لیکن بنگلہ دیشی حکومت علامتی طور پر پھانسیوں کا ٖڈرامہ رچا سکتی ہے۔ اوراس سے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں سرد مہری آ سکتی ہے۔
میں نے پوچھا کہ بنگلہ دیش کو اس ظلم و ستم سے کیسے باز رکھا جا سکتا ہے۔
ہم نے اپنی سی کوشش کر دیکھی ہے، موجودہ وزیر اعظم سے دو بار ملاقات کی، انہیں پروفیسر خورشید صاحب نے دلائل سے قائل کیا کہ حکومت پاکستان کو ا س مسئلے پر متحرک ہونا چاہئے مگر یوں لگتا تھا کہ جیسے نواز شریف کو ہماری بات کی سمجھ نہیں آئی، یا وہ سمجھنا چاہتے ہی نہ تھے۔
کیا یہ صرف جماعت اسلامی کا ہی مسئلہ ہے، پھانسیاں تو ان لوگوں کو بھی ہو رہی ہیں جن کا کوئی تعلق جماعت سے نہیں ، فضل القادر چودھری کے بیٹے کو پھانسی دی گئی اورا ب آپ کہتے ہیں کہ وہ فوج کے کچھ لوگوں کو بھی پھانسیوں کی سزائیں سنانا چاہتے ہیں۔
ہم تو نہیں سمجھتے کہ یہ اکیلی جماعت کا مسئلہ ہے، بلکہ جب ہم اکیلے اس مسئلے پر شور مچاتے ہیں تو بنگلہ حکومت کو یہ کہنے کا موقع ملتا ہے کہ یہ تو بجائے خود ایک ثبوت ہے کہ ان مجرموں کے پیچھے جماعت کا ہاتھ ہے۔
میں نے بات کا رخ پھر اصل خدشے کی طرف موڑا کہ اگر پاکستان نے اپنے محسنوں کو نظرا نداز کرنے کی یہ روش جاری رکھی تو آئندہ پاکستان کے ساتھ کون کھڑا ہو گا، تنہا فوج تودفاع کا فریضہ ا انجام نہیں دے سکتی۔ شاید اسی وجہ سے آج فوج کے ساتھ کھل کر کوئی سیاسی جماعت نہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کی سبھی نے حمائت کی مگر اس پر کوئی عملی تعاون کرتا نظر نہیں آتا بلکہ الٹا رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔
لیاقت صاحب نے کہا کہ یہ منظر نامہ قوم کیلئے قابل فخر تو نہیں ہے۔ ہمیں اپنا قبلہ درست کرنے کے لئے پہلے تو مظلوم بنگلہ دیشی بھائیوں کے لئے آواز میںآواز ملانی چاہئے۔ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ایک یادداشت تیار کریں اورا س پر ساری سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو متحد کریں، یہ یادداشت حکومت پاکستان کو بھی بھیجی جائے گی، اقوام متحدہ کوبھی ارسال کی جائے گی، بنگلہ دیشی حکومت کو بھی وصول کروائی جائے گی اور اسلامی کانفرنس کے پلیٹ فارم سے بھی آواز اٹھانے کی کوشش کریں گے۔
میں نے بلوچستان کے محب وطن لیڈر سردار غوث بخش باروزئی کی ایک فون کا ل کا ذکر چھیڑا ، چند روز پہلے انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ میں تو ایک غیر مشروط پاکستانی ہوں اور دعا بھی ہے کہ پاکستانی فوج بلوچ علیحدگی پسندوں کی شورش پر مکمل قابو پا لے مگر بھارت جس طرح اپنی را کے دہشت گرد ایجنٹوں کو ہمارے صوبے میں دخل اندازی کے لئے بھیج رہا ہے، اس پر ہمیں گہری تشویش بھی ہے۔گوادر اور پاک چین راہداری ہمارے ہمسایوں کو ہضم نہیں ہو پا رہیں۔بڑی طاقتوں کے مذموم عزائم بھی واضح ہیں،آج تو ہمیں کسی سے کوئی ڈر خوف نہیں ہے، ہماری فوجی قیادت بھارتی عزائم کو خاک میں ملانے کے لئے یک سو ہے مگر کل کو کون آئے گا، کیا موجودہ پالیسیاں جاری رہ سکیں گی۔ ماضی میں فوجی قیادت بدلنے سے ملک کو کئی بار نقصان پہنچ چکا ہے۔
لیاقت بلوچ نے میری بات کاٹتے ہوئے بتا یا کہ جنرل کیانی کے دور میں دو مرتبہ اے پی سی ہوئی، دونوں بار جنرل کیانی کی یہی سوچ سا منے آئی کہ دہشت گردی پر طاقت سے نہیں، بات چیت سے قابو پانا چاہئے مگر جنرل راحیل کے ساتھ پہلی ا ے پی سی ہوئی تو انہوں نے آپریشن کا عندیہ دیا۔ دوران گفتگو نماز کا وقفہ ہوا تو میں نے انہیں جنرل کیانی کی سوچ یاد دلائی۔
میں نے اپنے کان لیاقت بلوچ کے ہونٹوں کے قریب کرتے ہوئے بے ا ختیار ہو کرسوال پوچھا۔
جنرل صاحب کا جواب کیا تھا۔
لیاقت بلوچ کی آنکھوں میں روایتی چمک تھی۔
جنرل صاحب نے جواب میں ایک قہقہہ لگایا۔
گفتگو ایک شرارتی موڑ پرآ کر رک گئی تھی۔
میں نے کہاکہ ہمیں ان محصور پاکستانیوں کا بھی تو خیال کرنا چاہیئے جو برسہا برس سے قیدو بند کی زندگی بسر کر رہے ہیں، نہ وہ مرتے ہیں، نہ وہ جیتے ہیں، نہ بنگلہ دیش ان کوقبول کرتا ہے، نہ پاکستا ن ان کی واپسی کو قبول کرتا ہے۔ہم نے اسی لاکھ افغان مہاجرین کابوجھ اٹھا لیا مگر چند لاکھ بہاری بھائیوں کی طرف پلٹ کر نہیں دیکھا۔
مجھے جواب ملا کہ اس مسئلے میں ہمیں جناب مجید نظامی بہت ہی یاد آتے ہیں، وہ زندہ تھے تو محصور پاکستانیوں کا مسئلہ زندہ تھا،ان کے لئے چندہ بھی جمع کیا جاتا تھاا ور ان تک پہنچایا بھی جاتا تھا،نظامی صاحب اس دنیا سے کیا رخصت ہوئے کہ ایک خلا واقع ہو گیا، یہ محصور پاکستانی تو اپنے آپ کو مجید نظامی کی وفات کے روزسے یتیم محسوس کر رہے ہیں۔
میں بھی اپنے مرشد کو یاد کرتا ہوں تو آنکھیں آنسووں سے تر ہو جاتی ہیں۔وہ ہوتے تو میرے کالم بنگلہ دیشی حکومت کے لئیے نار جہنم کی صورت اختیار کر جاتے۔اب صرف لیاقت بلوچ کے ساتھ مل بیٹھ کر درد بانٹنے کو کوشش کرتا ہوں ، ان کے ساتھ عبدالغفار عزیز اور امیر العظیم بھی تھے ا ور یوں لگتا تھا کہ پوری کائنات ہماری ہم زباں تھی۔
انٹرویو: اسداللہ غالب

  • Print