یادیں

پوری قوم میدان جنگ میں تھی….جبار مرزا

ستمبر 1965کی پاک بھارت جنگ دراصل کفر اور اسلام کی جنگ تھی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کے صدر فیلڈمارشل محمد ایوب خان مسلمان تھے اور بھارت کا وزیراعظم لال بہادر شاستری ہندو تھا تو وہ کفر اور اسلام کی جنگ کہلائی۔ بلکہ دو سگے بھائی ایک دوسرے کے خلاف مورچوں میں اترے ہوئے تھے۔ جن میں سے ایک مسلمان اور دوسرا ہندو تھا۔ ہمارے علاقے کے قریب ایک بستی تھی‘ جسے راولپنڈی کا محلہ طہماسب آباد کہا جاتا ہے‘ بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری کے بڑے بھائی وہاں مقیم تھے۔ منیب جی ان کا نام تھا۔ مسلمان تھے محلے کی مسجد اکبری میں نماز باجماعت ادا کیا کرتے تھے۔ مری کے سوراسی والے بابا لال شاہ کے وہ مرید تھے۔ بابا جی کی روحانی کرامات پر منیب جی نے ایک کتاب بھی لکھی تھی۔ منیب جی جب خطرے کا سائرن بجنے پر گھر کے قریب کھیتوں میں بنائے گئے مورچے میں اترا کرتے تھے تو اپنے چھوٹے بھائی شاستری کو خوب خرافات سنایا کرتے تھے۔ منیب جی کے پاس دو جیپیں تھیں جن میں چابیاں لگی رہتی تھیں۔ ہم محلے کے نوجوان جب چاہتے منیب جی کی جیپ نکال کر لے جاتے‘ دو چار چکر لگاتے اور پھر جیپ ان کے گھر کے سامنے کھڑی کر کے آ جایا کرتے۔ وہ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو چکے تھے۔ وہ بلا کے سخی تھے۔ میں اُن دنوں سی بی اے ایس سی ٹیکنیکل ہائی سکول چکلالہ میں پڑھتا تھا جو راولپنڈی کے سٹیشن ہیڈکوارٹر کے زیرانتظام تھا۔ وہ میری نوجوانی سے ذرا پہلے کا دور تھا۔ اُن دنوں جب ہم چکلالہ ایئرپورٹ کے رَن وے سے گزرا کرتے تھے تو ’’رَن وے‘‘ پر کھڑا گن مین جو پرندوں کے ڈرانے دھمکانے کی ڈیوٹی پر ہوتا تھا‘ وہ ہمیں کہا کرتا کہ دوڑ کر گزر جاؤ‘ جہاز اترنے والا ہے اور کبھی کبھار سکول سے واپسی پر ہم رن وے پر کھڑے جہازوں کے پہیوں میں چھپن چھپائی کھیلنا شروع کر دیا کرتے کوئی کچھ بھی نہیں کہتا تھا‘ لیکن اب ٹکٹ لے کر بھی جائیں تو تلاشیاں لی جاتی ہیں۔ بسا اوقات کتوں سے بھی سونگھایا جاتا ہے۔ ماحول میں عجیب کتا خانی پھیل گئی ہے۔ حبیب جالب نے کسی ایسے موقع پر ہی کہا تھا کہ

اچیاں کنداں والا گھر سی رولیندے ساں کُھل کے

ایسی وا وگائی آ ربّا رہ گئی جندڑی رُل کے

بات 1965کی جنگ کے حوالے سے منیب جی کی ہو رہی تھی۔ جب 10جنوری 1966کو جمہوریہ ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں پاکستانی صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان اور بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری نے معاہدہ تاشقند پر دستخط کئے تو اسی رات شاستری فوت ہو گیا۔ منیب جی قدرے رنجیدہ ہوئے۔ ظاہر ہے آخر بھائی تھا‘ دکھ تو ہوا ہو گا۔ مگر انہوں نے جو تبصرہ کیا تھا وہ بڑا دلچسپ تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ اپنے پاس ہونے کی خبر سن کر بیمار ہو جایا کرتا تھا اور کئی کئی روز تک گھر میں پڑا رہتا تھا۔ تاشقند جیسے بین الاقوامی معاہدے پر دستخط کر کے وہ مرتا نہ تو کیا کرتا۔ معاہدہ تاشقند کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایوب خان نے میدان میں جیتی ہوئی جنگ مذاکرات کی میز پر ہار دی تھی۔ اگر یہ بات درست تھی تو یکم فروری 1966کو بھارتی چیف آف سٹاف جنرل جی این چوہدری نے اعلان تاشقند کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ کیوں دیا تھا؟ بھارت کی مشرقی کمان کے جی او سی لیفٹیننٹ جنرل مانک شا نے دل برداشتہ ہو کر مشرقی پاکستان کی سرحد سے اپنی فوجیں کس لئے ہٹا لی تھیں؟

15فروری 1966کو اعلان تاشقند کے خلاف بھارتی پارلیمنٹ کے سامنے بھارتی سول سوسائٹی نے زبردست مظاہرہ کیوں کیا تھا؟ تبصرہ کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ جب ایوب خان 3جنوری 1966 کو تاشقند پہنچے تھے ان کا وفد 16افراد پر مشتمل تھا۔ سات روز تک مسلسل مذاکرات ہوتے رہے۔ شاستری مسئلہ کشمیر سے پہلوتہی کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاشقند مذاکرات کو حالیہ جنگ ستمبر تک محدود رکھا جائے۔ جبکہ جنرل ایوب خان کا موقف تھا کہ مسئلہ کشمیر کو نظر انداز کر کے کسی سمجھوتے پر پہنچنے سے بہتر ہے کہ بغیر معاہدے کے ہمیں واپس چلا جانا چاہئے۔ سوویت یونین چونکہ ثالث کے فرائض انجام دے رہا تھا‘ یہی وجہ تھی کہ روسی وزیراعظم کوسیجن نے صدر ایوب خان سے مسلسل کئی ملاقاتیں کیں۔ آخرکار دونوں ممالک اس بات پر متفق ہو گئے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق باہمی مذاکرات کی بنیاد پر حل کریں گے۔ بھٹو اس معاہدے پر ناخوش تھے۔ بات شاستری اور معاہدہ تاشقند کی ہو رہی تھی۔ لال بہادر شاستری 1964 میں پنڈت جواہر لعل نہرو کی وفات کے بعد بھارت کے وزیراعظم بنے تھے‘ انہوں نے اپنے اقتدار کے کچھ ہی ماہ بعد 1965 میں رن آف کچھ کا محاذ کھول دیا تھا۔ رن آف کچھ کا علاقہ پاکستانی علاقے سندھ اور کچھ نامی سابق ریاست کے درمیان ایک خشک جھیل کا غیرآباد علاقہ ہے۔ اس کے تقریباً ساڑھے تین ہزار مربع میل علاقے پر پاکستان کا دعویٰ تھا جب کہ بھارت کا کہنا تھا کہ 8400 مربع میل کا سارا علاقہ اس کی ملکیت ہے۔ یہ 250 میل لمبی پٹی ہے جو بحیرۂ عرب کی پاکستانی سرحد سے شروع ہو کر سندھ کے قدیم اور تاریخی قصبے نگرپار تک جاتی ہے۔ بھارت نے 1965 کے اوائل میں اس علاقے میں نئی سرحدی چوکیاں قائم کرنا شروع کر دی تھیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھے بھارت نے پاکستان کی سرحدی چوکی کنجر کوٹ کے قریب سردار نامی چوکی قائم کر کے وہاں بارڈر سکیورٹی فورس کے دستوں کو متعین کر دیا تھا۔ پاکستان نے جب بھارت سے جارحانہ رویہ ترک کرنے کا مطالبہ کیا تو بھارت نے سنی اَن سنی کر دی اور علاقے میں اشتعال انگیز کارروائیاں اور بھی تیز کر دیں۔ لیکن پاکستان نے 8اپریل 1965 کو اپنی چوکی کنجر کوٹ کو مضبوط کرنے کے لئے سردار پوسٹ کا گھیراؤ کیا تو بھارتی وہاں سے بھاگ گئے مگر کچھ ہی دنوں بعد اس پر دوبارہ آ بیٹھے اور اسے مزید مضبوط کرنے میں لگ گئے جس کے جواب میں پاکستان نے بھارتی چوکی بیاربیٹ پر حملہ کر دیا۔ اس حملے میں کئی بھارتی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے‘ بہت سے بھارتیوں کو قیدی بنا لیا گیا‘ کچھ میدان چھوڑ کر بھاگ گئے۔ اسی اثنا میں برطانوی وزیراعظم ہیرلڈولسن نے دونوں حکومتوں کے مابین مفاہمت کرانے کے لئے اپنی خدمات پیش کیں۔ چنانچہ 30 جون 1965ء کو دونوں ممالک نے جنگ بندی کے ایک معاہدے پر دستخط کر دیئے اور معاملہ ایک بین الاقوامی ٹربیونل کے سپرد کر دیا گیا جس نے آگے چل کر بہت بعد 19فروری 1968کو فیصلہ دیتے ہوئے چھڈبیٹ‘ کنجر کوٹ اور رن کچھ کے کئی علاقے پاکستان کو واپس دلائے۔ پاکستان اپنے 30جون 1965 کے امن معاہدے کے بعد مزید کسی قسم کی کارروائی کرنے کے حق میں نہیں تھا۔ فیلڈ مارشل ملکی عوام اور آنے والی نسلوں کے لئے کام کرنا چاہتے تھے۔ ان کا سارا دھیان ترقیاتی منصوبوں پر تھا۔ ملک میں ڈیم بن رہے تھے۔ زراعت میں قابل رشک حد تک کام جاری تھا۔ 1965کی جنگ سے پہلے پاکستان کی اقتصادی حالت خاصی بہتر تھی۔ ملک کی مجموعی پیداوار 8فیصد کی شرح سے ترقی کر رہی تھی۔ ماہرین اقتصادیات کا خیال تھا کہ اگر ترقی کی یہ شرح دس سال تک برقرار رہی تو وہ دن دور نہیں کہ جب پاکستان جاپان کی ہمسری کا دعویٰ کر دے گا۔ اُن دنوں پاکستان سیٹو اور سینٹو میں شامل تھا۔ امریکہ کا پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ بھی تھا۔ پاکستان کے فوجی اخراجات بھی کم تھے۔ آمدنی کا زیادہ حصہ زراعت اور صنعت پر خرچ ہو رہا تھا‘ جس کی وجہ سے ملک کا اقتصادی مستقبل روشن اور پرامید تھا مگر 1965 کی جنگ کے بعد امریکہ نے پاکستان کی فوجی امداد بالکل بند کر دی تھی اور اقتصادی امداد میں قابل ذکر حد تک کمی کر دی تھی۔ جس کی وجہ سے پاکستان کو فوج میں توسیع اور ہتھیاروں کی خریداری پر کافی روپیہ خرچ کرنا پڑا یوں بہت سارے اقتصادی منصوبے پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکے۔

1965 میں ہماری مسلح افواج پوری مہارت‘ شجاعت اور ایمانی قوت سے لڑیں اور جنگ کے اختتام پر پاکستان کے قبضے میں بھارت کے بہت زیادہ علاقے تھے۔

ان باتوں کو پچاس برس بیت گئے۔ 1965 کی دوسری نسل بھی جوان ہو چکی ہے مگر فیلڈ مارشل ایوب خان کے چھ ستمبر1965 والے ریڈیو خطاب کے وہ الفاظ ابھی تک ہم نہیں بھولے جب انہوں نے کہا تھا: ’’بھارتی حکمران شاید نہیں جانتے کہ انہوں نے کس قوم کو للکارا ہے۔‘‘ایسا ہی ہے پاکستانی قوم جن کے سینے لاالٰہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ سے منور ہیں‘ وہ ناقابل تسخیر ہے۔ مجھے تو راولپنڈی سی ایم ایچ میں دم توڑتا لیفٹیننٹ حبیب شہید نہیں بھولتا جو 1965 میں محاذ پر جانے سے ایک دن پہلے ہی اسی ہسپتال میں خون کا عطیہ دے کر گیا تھا اور جس نے شہادت کے وقت ڈاکٹر کیپٹن نصرت سے کہا تھا کہ پاکستانی قوم کو کوئی نہیں ہرا سکتا۔ مجھے تو پاکستان کی عظیم مغنیہ ملکہ ترنم نورجہاں کا وہ ایثار ابھی تک یاد ہے جب 6ستمبر سے 23ستمبر تک مسلسل سترہ دن وہ ریڈیو پاکستان سے گھر نہیں گئی تھیں اور وطن کے جاں نثاروں پر اپنی آواز نثار کرتی رہی تھیں۔ کالجوں‘ سکولوں اور یونیورسٹیوں کے وہ نوجوان کسے یاد نہیں ہوں گے جو 6ستمبر کی دوپہر واہگہ جانے اور دشمن سے دو دو ہاتھ کرنے کو بے تاب ہو رہے تھے۔ مگر باٹاپور میں انہیں اپنی فوج نے یہ کہہ کر لوٹ جانے پر مجبور کر دیا کہ مکار دشمن کو لاہور تک نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔ بی آر بی کا دوسرا کنارہ ان مورکھوں کی چتا بن جائے گا۔ تاریخ پر نظر رکھنے والوں نے پھر دیکھا کہ امرتسر کے وہ مہاسبھائی اور سیوک سنگھی غنڈے جو لاہور کو مال غنیمت سمجھ کر لوٹنے نکلے اور فتح کا جشن منانے کا خیال لے کر آئے تھے‘ اپنی ہی بھاگتی ہوئی فوج کے نیچے آ کر کچلے گئے۔ سیالکوٹ میں دنیا کی دوسری بڑی ٹینکوں کی لڑائی لڑی گئی۔ وطن کی حرمت پر قربان ہوتے ہوئے وہ خاکی وردی والے خود خاک ہو کر شہادت سے سرفراز ہو گئے مگر سیالکوٹ پر آنچ نہ آنے دی۔ ہمیں تو ستمبر 1965کے وہ دن بھی یاد ہیں جب ممتاز کہانی نویس ڈاکٹر یونس جاوید لاہور کی سڑکوں پر ’’ایک پیسہ دو ٹینک‘‘ کی چندہ مہم پر ’’پیپا‘‘ ہاتھ میں اٹھائے نکلا کرتے تھے‘ جس میں وطن کی مائیں بہنیں بیٹیاں ہزاروں کے زیورات پیسہ جان کر ڈال دیتی تھیں۔ وہ جذبے اب بھی زندہ ہیں۔ شکیل احمد جب ریڈیو پر خبریں سناتے وقت کہا کرتے کہ ’’پاک فضائیہ کے ہوابازوں نے دشمن کے ٹھکانوں پر ٹھیک ٹھیک نشانے لگائے۔‘‘ تو ہمارے گھر کے باہر کھڑے سیکڑوں لوگ جو جنگ کی خبریں سننے آیا کرتے تھے‘ بلند آواز میں نعرہ تکبیر لگایا کرتے تھے۔ بسااوقات ایسا گمان بھی گزرا کرتا کہ یہ لوگ خبریں سننے کے بعد سیدھے محاذ پر چلے جائیں گے۔ واقعی ایسی قوم کو کوئی نہیں ہرا سکتا۔ پھر جس قوم میں شمائلہ جیسی مائیں ہوں اسے فتح کرنا تو ناممکنات میں سے ہے۔

شمائلہ کرنل عباس بٹ کی اہلیہ ہیں جو 25 مارچ 2010 کو اورکزئی ایجنسی میں دہشت گردوں سے دست بدست مقابلے میں شہید ہوئے تھے۔ ان کی اہلیہ نے اپنے تین چھوٹےچھوٹے معصوم بیٹوں کے بارے میں لکھا تھا کہ دہشت گردوں نے ایک کرنل شہید کیا تھا‘ میں اپنے تینوں بیٹوں کو فوج میں بھجواؤں گی۔ کوئی بتلاؤ ایسی قوم کو ہرایا جا سکتا ہے؟ اطمینان کی بات ہے کہ قوم آج بھی موجود ہے‘ خدانخواستہ نریندرمودی نے شاستری بننے کی کوشش کی تو اگر ڈاکٹر یونس جاوید باہر نہ نکل سکے تو ان کا پوتا اُن کی جگہ وطن کے جاں نثاروں کے شانہ بشانہ کھڑا دکھائی دے گا۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ سیاسی قیادت نہ پچاس برس پہلے ہمیں میسر تھی نہ آج دکھائی دے رہی ہے۔ آج فوج اگر ضرب عضب میں مصروف ہے تو سیاسی قیادت بائیکاٹ اور احتجاجوں ہڑتالوں میں مصروف ہے۔ فوج سیلاب زدگان کی رہنمائی کے لئے پانی میں اتری ہوئی ہے تو سیاستدان آپس میں روٹھنے اور منانے میں لگے ہوئے ہیں۔ فوج اگر اقتصادی راہداری کے راستے کے کانٹے چننے میں مصروف ہے تو سیاسی قیادت دھرنا دھرنا کھیل رہی ہے جس طرح افواج پاکستان کا شمار دنیا کی بہترین فوج میں ہوتا ہے اسی طرح پاکستانی قوم جیسی قومیں بار بار پیدا نہیں ہوتیں۔ قوم آج بھی ہے اورقیادت کی منتظر ہے۔

  • Print