یادیں

چھ ستمبر…چند یادیں’چند باتیں…سعود ساحر

کہتے ہیں کہ اچھے وقتوں کی یادیں کلفت کے لمحوں میں ٹھنڈی اور خوشگوار ہواؤں کی مانند ہوتی ہیں۔ 6 ستمبر بھی ایک ایسی ہی، روح کو طمانیت دینے اور حوصلوں کو جلا بخشنے والی، یاد ہے۔ وہ جوانی کے دن تھے‘ جسم میں توانائی تھی‘ ذہن میں اجالے تھے‘ شاعروں کی محافل تھیں‘ چہروں پہ تازگی تھی۔ آج جب سہولت کا زمانہ ہے، ایسے میں 6 ستمبر کا تصور اجاگر ہوتا ہے تو سرور و کیف کے لمحے لوٹ آتے ہیں۔ ذہن میں نغمے گونجتے لگتے ہیں۔ ’’اے دشمن دیں تو نے کس قوم کو للکارا۔‘‘ ’’اے وطن کے سجیلے جوانوں میرے نغمے تمہارے لئے ہیں۔‘‘
جن بچوں کو گود میں بھر کر ٹرنچ میں ماں کے حوالے کرنا پڑتا تھا، آج وہ وطن کے سجیلے جوانوں کی صف میں کھڑے قدم قدم وطن کی رکھوالی کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔ سیاچن کی آسمان کو چھوتی ہوئی بلندی ہو یا صحراؤں کی آگ اگلتی وطن کی ریت، یا ایسا خطہ وطن جہاں سردی‘ گرمی کا موسم آنکھ مچولی کھیلتا ہو۔ یہ سربلند نوجوان ہر دم صدا لگاتے ہیں۔ آرام کی نیند سونے والو! ہم جاگ رہے ہیں۔ ذہن میں برسوں پرانے مناظر ذہن کی سکرین پر فلم کی طرح چلتے ہیں۔ 5ستمبر کی ڈھلتی ہوئی شام کو میں بھلا سکتا ہوں؟ جب ہمارے چیف رپورٹر غیور احمد اور فوٹوگرافر عجیب حال میں نیوزروم میں داخل ہوئے۔ سر سے پاؤں تک کیچڑ میں بھرے ہوئے‘ خشک ہوتا ہوا کیچڑ یوں کپڑوں سے فرش پر گر رہا تھا جیسے ہلکی بارش میں بوندیں پڑتی ہیں۔ مقامی ایڈیٹر شورش ملک مرحوم نے دریافت کیا کہاں سے آرہے ہو اور حالت کیا بنا رکھی ہے؟ پتہ چلا کہ آئی ایس پی آر والے خطہ متارکہ جنگ پر اخبار نویسوں کو لے کر گئے تھے۔ جہاں بھارت کے جنگی طیاروں نے حملہ کیا۔ جان بچانے کو جس خندق یا گڑھے میں چھلانگ لگائی، اس میں جو کچھ تھا کپڑوں اور جسم کا حصہ بنا۔ غیور احمد ایک لائق رپورٹر تھے، کم گو اتنے کہ دفتر میں ان کی آواز بہت کم سنی جاتی مگر لگتا تھا کہ آج وہ اگلی پچھلی کسر پوری کرنے پر آمادہ ہیں۔ ان کی گفتگو میں خوف یا تشویش کا کوئی عنصر نہیں تھا۔ بلکہ جذبوں کی فراوانی تھی۔ میجر صدیق سالک کی اخبار نویسوں سے گفتگو کا حوالہ دیتے کہ انشاء اﷲ چھٹی کا دودھ یاد دلا دیں گے۔
پھر فیلڈ مارشل ایوب خان کی وہ تقریر کروڑوں پاکستانیوں کے جسموں میں توانائی کے انجکشن کا کام کر گئی۔ ضیغم زیدی (مرحوم) کی اس موقع پر بنائی ہوئی تصویر جسے حکومت نے اعزاز سے نوازا، آج بھی راولپنڈی پریس کلب کے مرکزی ہال میں لگی ہوئی ہے۔ مسلح افواج کے محکمہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی سربراہی ایک نامور صحافی جناب زیڈ اے سلہری کر رہے تھے، وہ ان دنوں کرنل سلہری کہلاتے تھے اور انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں تحریر و تقریر میں اپنا مافی الضمیر بیان کرنے میں یدِطولیٰ رکھتے تھے۔ وفاقی وزارت اطلاعات کے سیکرٹری کے منصب پر جناب الطاف گوہر فائز تھے۔ گفتگو کا وہ انداز کہ:
؂ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی
ہر روز راولپنڈی کے پانچ ستارہ ہوٹل میں محفل جمتی اور ہر محاذ کی تازہ ترین خبروں کے ساتھ یہ دونوں حضرات حاضرین کی توجہ کا مرکز ہوتے۔ ملکی اور غیرملکی اخبار نویس مختصر سی گفتگو کے بعد سوال و جواب کی صورت میں خبریں حاصل کرتے۔ یہ بہت بعد میں معلوم ہوا کہ ایک چلتا پھرتا ریڈیوسٹیشن میجر مجیب الرحمن (بعد میں لیفٹیننٹ جنرل کی حیثیت سے وفاقی سیکرٹری اطلاعات بھی رہے)کی سربراہی میں دم بدم حوصلوں کی سوغات بانٹتا اور دشمن کے جھوٹ کا پول کھولتا تھا۔ پاکستان ٹیلی ویژن ابھی اپنے خدوخال سنوارنے کی کوشش میں لگا تھا‘ جبکہ ریڈیو پاکستان پر شکیل احمد کا اردو خبریں پڑھنے کا اپنا انداز تھا۔ خبر کے ساتھ اس کا لہجہ دلوں کو ولولہ تازہ عطا کرتا تھا۔ جب وہ ہلواڑہ کے ملیا میٹ ہونے کی اطلاع دیتا تو نگاہوں کے سامنے پاک فضائیہ کے طیاروں کا جھپٹ کر پلٹنے اور پلٹ کر جھپٹنے کا منظر اجاگر ہو جاتا اور ایک ہی وار میں ایم ایم عالم کی دشمن کے کئی طیاروں کو ملبے کا ڈھیر بنانے کی، اطلاع سے دل شاد ہو جاتا۔ انگریزی خبریں پڑھنے والی دو خواتین بھی اپنی آواز کا جادو جگاتیں۔ جنہیں انیتا غلام علی اور شائستہ زید کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ان تینوں کی تصاویر آج بھی پارلیمنٹ بلڈنگ کے پریس روم میں آویزاں ہیں۔ لگتا ہے ابھی پریس روم میں آواز گونجے کی۔’’ اب آپ شکیل احمد سے خبریں سنیئے۔‘‘ ہر سینئر و جونیئر ان کے نام اور لاجواب کام سے آگاہ ہے۔
6ستمبر ایک ایسا دن اور تاریخ ہے جس کا ہر لمحہ، ہر ساعت اپنی علیحدہ شناخت رکھتی ہے۔ یہی تو وہ دن ہے جب زندگی کا ہر شعبہ، ہر گوشہ اتحاد، یکجہتی اور یگانگت کی علامت بن گیا۔ سیاسی اختلافات طاق نسیاں پر رکھ دیئے گئے۔ سارے دائیں بائیں بازو ایک دوسرے کا دست و بازو بن گئے۔ دینی رہنما ایک صف میں کھڑے نظر آئے۔ شاعروں نے اپنے فن کے جوہر دکھائے۔ گانے والوں نے اپنی آواز کا جادو جگایا۔ اُفق تابہ اُفق ہم نظری کے منظر ابھرے۔
سرگودھا اور سیالکوٹ اپنی آن، بان اور شان سے جیتے جاگتے ہمارے وہ شہر ہیں جن کے ساتھ جنگ ستمبر کی ایسی یادیں وابستہ ہیں جو ہماری سربلندی کا استعارہ ہیں۔ سیالکوٹ جہاں بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بنا تھا، سرگودھا جو ہماری فضائیہ کی شان کو دوبالا کرتا ہے یہ 6 ستمبر 65 کے بہت بعد کی بات ہے کہ سرگودھا میں ایئرمارشل شربت علی چنگیزی نے منتخب اخبار نویسوں کو F-16 کے بارے میں بریفنگ دی اور فضائیہ کے اس شیردل افسر سے بھی ملوایاجسے ایف سولہ کا پہلا ہواباز ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ ایئر مارشل شربت علی چنگیزی کی گفتگو کے اختتام پر سوال و جواب کا مرحلہ آیا تو ایک سوال یہ بھی تھا کہ اگر خدا نہ کرے دشمن کہوٹہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کرے تو ہمارا تحفظ کا فول پروف نظام موجود ہے؟ ایئرمارشل چنگیزی کا جواب ایک ایسی حقیقت ظاہر کر گیا جس پر ہر مسلمان کا ایمان تو ہے مگر ہماری فکر کا زندہ حصہ نہیں ہے۔ محترم چنگیزی (مرحوم)، اﷲ تعالیٰ اُن کی قبر نور سے بھر دے‘ (آمین) نے فرمایا کہ جناب میں مسلمان ہوں اور میرا یہ ایمان ہے کہ کائنات میں سوائے اﷲتعالیٰ کے، کوئی فول پروف نہیں۔ ہر وجود نے بے وجود ہونا ہے۔ بس ایک کائنات کے خالق کی ذات ہے جسے اندیشۂ زوال نہیں۔ ہم نے اپنے حساس مقامات کی حفاظت کا انسانی بساط سے بڑھ کر بندوبست کیا ہے۔ اس کے باوجود خدا نہ کرے دشمن کوئی ایسی نازیبا جرأت کرے تو ہم ایک لمحہ کی تاخیر کے بغیر (چھڑی سے نقشہ پر گول دائرہ بناتے ہوئے)ان کے کئی شہروں کا نشان مٹا دیں گے۔ یہ بات برسبیلِ تذکرہ آ گئی۔ ذکر 6ستمبر کا تھا۔ یوں بھی ہماری مسلح افواج ہر دن کو 6 ستمبر کی طرح پوری مستعدی کے ساتھ گزارتی ہیں۔ یہی ہماری نیوکلیئر ڈاکٹرائن بھی ہے۔
6 ستمبر ایک ایسا دن اور تاریخ ہے جس کا ہر لمحہ، ہر ساعت اپنی علیحدہ شناخت رکھتی ہے۔ یہی تو وہ دن ہے جب زندگی کا ہر شعبہ، ہر گوشہ اتحاد، یکجہتی اور یگانگت کی علامت بن گیا۔ سیاسی اختلافات طاق نسیاں پر رکھ دیئے گئے۔ سارے دائیں بائیں بازو ایک دوسرے کا دست و بازو بن گئے۔ دینی رہنما ایک صف میں کھڑے نظر آئے۔ شاعروں نے اپنے فن کے جوہر دکھائے۔ گانے والوں نے اپنی آواز کا جادو جگایا۔ اُفق تابہ اُفق ہم نظری کے منظر ابھرے۔ جمیل الدین عالی‘ احمدندیم قاسمی‘ صوفی تبسم‘ اثر آفریں اشعار کہتے۔ سازوآواز کے ناموروں نے انہیں ہوا کے دوش پر ڈالا۔ نور جہاں نے اپنی سحر انگیز آواز اور اپنے نغمات وطن کے سجیلے جوانوں کے نام کئے۔ غرض جو جہاں تھا وطن کی پاسبانی کے لئے سینہ سپر ہو گیا۔ ایک ہی نعرہ ہر زبان پر تھا۔ ’’اے دشمن دیں تو نے کس قوم کو للکارا ،لے ہم بھی ہیں صف آراء۔‘‘ ہمارے شیردل جوانوں نے بلند آواز سے صدا دی اور اس قوم کو زندہ حقیقت میں ڈھال دیا۔
ہم چٹانیں ہیں کوئی ریت کا ساحل نہیں
شوق سے شہر پناہوں میں لگا دو ہم کو
عجیب دن تھا۔ہر فرد ملت کے مقدر کا ستارہ بن گیا تھا۔ کیا تاجر‘ کیا صنعت کار‘ کیا پنساری‘ کیا پٹواری‘ کیا قصاب ایک ایک فرد نے اپنے گرد حب وطن کا حصار کھینچ لیا تھا۔ ناجائز منافع خوری ناپید ہو گئی تھی۔ اشیاء کی قلت کا تصور معدوم ہو گیا تھا۔ بازاروں‘ گلیوں‘ محلوں میں جرائم عنقا ہو گئے تھے۔ محافظان وطن سرحدوں پر دشمن کے سامنے سینہ سپر تھے۔ ایک ایک انچ کی رکھوالی کے لئے جان نچھاور کرنے والے ایک دوسرے سے بازی لے جانے پر تلے تھے۔ گلیوں اور کوچہ و بازار کی نگہبانی کا فرض عام آدمی ادا کرنے کے لئے مستعد تھا۔ کوئی اجنبی اپنی شناخت کرائے بغیر راتوں کو مٹرگشت نہیں کر سکتا تھا۔ زندہ دلان لاہور ‘ لاٹھی‘ ڈنڈا جو کچھ بھی ہاتھ لگا، لے کر واہگہ بارڈر کی طرف دوڑ لگاتے۔ بمشکل ان کاموں کی طرف متوجہ کیا جاتا جو عام شہری کا کر سکتا ہے۔ پھر گلی کوچوں میں ضروری اشیاء کے ڈھیر لگے۔ وار فنڈ میں خواتین نے زیور‘ مردوں نے نقد رقم اپنی مقدور سے زیادہ دیا۔ سرحدوں کے قریب آباد علاقوں سے جنگ کے سبب نقل مکانی کرنے والوں کے لئے اشیائے ضروریہ کے ڈھیر امدادی مراکز میں لگا دیئے۔ جنگ کے اختتام پر ایک مرحلہ وہ بھی آیا جب مورچوں میں بیٹھے ہوئے افسروں اور جوانوں کو کتابوں اور رسائل کی طلب ہوئی تو لوگوں نے مقررہ مقامات پر کتابوں اور رسالوں کے ڈھیر لگا دیئے۔
شورش ملک صاحب مرحوم ہمارے نیوز ایڈیٹر تھے اور برادری کے معتبرین میں شمار ہوتے تھے۔ چکوال کی سرزمین کے سپوت‘ فوجی خاندان کے فرد۔ انہوں نے پریس کلب کی جنرل باڈی کے اجلاس میں تجویز دی کہ تمام اخباروں کے کارکن ایک دن کی تنخواہ وار فنڈ میں دیں۔ سو یہ سعادت بھی اسی زمانے کے صحافیوں کو نصیب ہوئی۔ شورش ملک جنگی نغموں کو دیوانگی کی حد تک پسند کرتے تھے۔ بالخصوص نور جہاں کے گائے ہوئے نغمے اس قدر پسند تھے کہ جونہی ریڈیو پر نورجہاں کی ملکوتی آواز گونجتی‘ ملک صاحب قلم میز پر رکھ دیتے۔ جتنی دیر نغمہ گونجتا نیوزروم میں کام بند رہتا۔ شعبہ کتابت میں الگ ریڈیو موجود تھا۔ دفتر کے سامنے عیدگاہ میں گوالمنڈی کی بیشتر آبادی کے لئے خندقوں کا بندوبست تھا‘ مگر ملک صاحب سائرن بجنے پر کسی کو کرسی سے اٹھنے نہ دیتے۔ کہتے جان کی حفاظت لازم مگر وقت پر کاپی پریس کو پہنچانا ہر چیز سے زیادہ اہم ۔ شورش ملک شاعر بھی تھے۔مگر مشاعروں میں جانا وقت کو بے مقصد ضائع کرنا سمجھتے تھے اور اپنے اشعار کو محفوظ رکھنے کا تکلف بھی نہ کرتے۔ شاعری کو ذریعہ عزت سمجھنے سے منکر تھے۔ مگر کوئی واقعہ ‘کوئی سانحہ‘ کوئی غیرمعمولی لمحہ ضرور آتا کہ ملک صاحب شہ سرخی ادھوری چھوڑ کر آنکھیں موندھ لیتے۔کرسی کی پشت پر جا لگتے‘ نیوزروم کی طویل میز پر بیٹھے تمام سب ایڈیٹر چوکنے ہو جائے کہ نزول اشعار کا مرحلہ ہے۔ چند منٹ بعد بیداری کے عالم میں آتے اور چند شعر سنا کر اپنے کام میں لگ جاتے۔ کوئی شعری ذوق رکھنے والا کاغذ پر اتار لیتا تو درست ورنہ اگلے دن خود شورش ملک بھی سنا نہ پاتے کہ گزری ہوئی رات میں دل و دماغ پر کیا واردات گزری جو اشعار میں ڈھل گئی۔ ایسا ہی ایک لمحہ تھا کہ اے پی پی کی کریڈ پر ایک خبر پڑھ کر شورش ملک عالم استغراق میں چلے گئے۔ اس کیفیت سے نکلے تو دواشعار سنا کر خبر ایک سب ایڈیٹر کے حوالے کر کے اپنے دل پسند مشغلے میں لگ گئے یعنی سگریٹ نوشی۔ خبر یہ تھی کہ واہگہ سرحد پر دوبانکے سجیلے جوان راہ حق میں شہید ہو گئے اور اپنے خون سے سرحد کی ایسی دائمی لکیر بنا گئے جسے عبور کرنا دشمن کے لئے کسی طور ممکن نہیں۔ دونوں شعر آج تک لوح ذہن پر محفوظ ہیں۔ شہید ہونے والے دو میجر تھے۔ میجر عزیز بھٹی شہید اور میجر عبدالحبیب شہید بعد میں نشان حیدر عزیز بھٹی شہید کے نام ہوا۔ دنوں اشعار حاضر خدمت ہیں۔
اپنے لہو سے روشن کر دیں گلیاں اس ویرانے کی
گرچہ تنگ بہت تھیں راہیں شہر وفا کو جانے کی
جان تھی اک جو حاضر کر دی پھر بھی رہے شرمندہ سے
دل والے خود ہی لکھ لیں گے سرخی اس افسانے کی
ہماری سرحد وں پر نامور سپوتوں کے مزار اور بے نام شیردل جوانوں کی قبور اس مقدس سرزمین کی پاسبانی کا عہد نامہ نہیں تو کیا ہے؟ یہ بہادری، شجاعت اور جوانمردی کی داستانیں جو ہمارے شہیدوں اور غازیوں نے رقم کیں، یہ بہادری چودہ سو سالہ تاریخ کا تسلسل ہے۔ عرب سے عجم تک کوئی چاہے تو نقش قدم گن لے، ہر عہد میں ہمارے بہادروں نے اس میثاق کا بھرم رکھا ہے۔
بندوق بردار ہو یا قلم بدست‘ سڑک پر پتھر توڑ رہا ہو کہ مدرسے میں علم بانٹنے کا فریضہ ادا کر رہا ہو۔ نماز میں پیش امام ہو کہ مقتدی‘ ہر فرد اسی جذبے سے سرشار تھا۔ یہ جذبہ اب کی بار پھر واپس لانے کا وقت ہے۔ اسی میں وطن عزیز کی سلامتی اور بقا جڑی ہوئی ہے۔ آج پھر وانا سے کراچی تک میرے جانباز دہشت گردی کے عفریت کی سرکوبی میں لگے ہیں۔ اپنے لہو سے گلشن کی آبیاری میں لگے ہیں۔
یہ شبیر شریف‘ عزیز بھٹی ‘ سرور‘ سرفراز رفیقی‘ جنرل افتخار جنجوعہ‘ راشد منہاس‘ میجر طفیل‘ لانس نائیک محفوظ‘ لالک جان‘ کیپٹن کرنل شیرخان اور سیکڑوں دوسرے شہداء اور غازی ہماری عسکری تاریخ کے وہ روشن ستارے ہیں جو سر اٹھا کر جینے اور سر کٹا کر قوم کی زندگی کا سامان کرنے کی راہ دکھاتے ہیں۔ ایک طویل عرصے تک اخبار نویسوں کا گروہ‘ اپنے قائد محمد نواز رضا کی قیادت میں ساری رات 6 ستمبر کا سورج طلوع ہونے تک پریس کلب میں رت جگا کرتا اور توپوں کی گھن گرج میں کیپٹن سرور شہید کے مزار پر حاضری کے لئے روانہ ہوتا۔ پھولوں کی چادر چڑھاتا، ملک کی سلامتی‘ سیاسی اور معاشی استحکام کی دعا کرتا۔ اپنی بڑھتی ہوئی عمر اور گھٹتی ہوئی جسم و جان کی توانائی کے سبب اس کاررواں کا حصہ بننے سے قاصر ہوں تاہم 6ستمبر کو صبح کاذب سے صبح صادق تک خود کو دعاؤں میں مصروف رکھتا ہوں۔ کہانی طویل ہے۔ تیسری نسل تک اس کی خوشبو اور چمک پہچانا بھی لازم ہے۔ اس عہد کے ایک واقعے کا تذکرہ لازم ہے جو اپنی تمام جزئیات کے ساتھ آج بھی ذہن میں محفوظ ہے۔ آنکھیں بند کرتا ہوں تو فوجی وردی میں ملبوس کرنل زیڈ اے سلہری اور سوٹ پہنے جناب الطاف گوہر ساتھ ساتھ کرسیوں پر بیٹھے نظر آتے ہیں۔ ملکی اور غیرملکی اخبار نویس مقابل بیٹھے ہیں۔ آج کی تازہ ترین صورت حال سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ یہ اس دن کی بات ہے جس دن بھارت کے سر پھرے جنرل نے آب ناپاک (شراب) لاہور کے جمخانہ کلب میں ’’پینے‘‘ کی خواہش کی۔ ایک غیرملکی اخبار نویس کا سوال تھا اگر ایسا ہوا تو آپ کیا کریں گے؟ یوں لگا جیسے دونوں بزرگوں کو بجلی کی ننگی تار چھو گئی ہے۔ دونوں کرسی سے کھڑے ہو گئے۔ اور ایک ہی جملہ دونوں نے نعرے کی صورت میں ادا کیا۔ مسٹر ہم تو اس دنیا میں نہیں ہوں گے۔ وطن پر قربان ہونے سے بچ جانے والوں سے پوچھنا کہ وہ کیا کریں گے؟ بندوق بردار ہو یا قلم بدست‘ سڑک پر پتھر توڑ رہا ہو کہ مدرسے میں علم بانٹنے کا فریضہ ادا کر رہا ہو۔ نماز میں پیش امام ہو کہ مقتدی‘ ہر فرد اسی جذبے سے سرشار تھا۔ یہ جذبہ اب کی بار پھر واپس لانے کا وقت ہے۔ اسی میں وطن عزیز کی سلامتی اور بقا جڑی ہوئی ہے۔ آج پھر وانا سے کراچی تک میرے جانباز دہشت گردی کے عفریت کی سرکوبی میں لگے ہیں۔ اپنے لہو سے گلشن کی آبیاری میں لگے ہیں۔
خدا کرے کہ میری ارضِ پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو

  • Print